تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 93 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 93

فرداً کرتے ہیں ان کا کوئی ایسا نتیجہ نہیںنکلتا جس سے لوگوں کے دلوں میںخیر کی تحریک پیدا ہو۔اسی طرح ہزاروں ہزار لوگ شر کرتے ہیں مگر چونکہ وہ فرداً فرداً کرتے ہیں اس لئے ان کے شر کا کوئی ایسا نتیجہ نہیںنکلتا جس کو دیکھ کر لوگ مرعوب ہو جائیں اور اعمال شر کو ہمیشہ کے لئے ترک کر دیں۔مگر فرماتا ہے ہم جس زمانہ کی خبر دے رہے ہیں اس میںخیر کرنے والے بھی اپنے اپنے عمل کا ذرہ لا کر ایک جگہ ڈال دیں گے اور شر کرنے والے بھی اپنے اپنے عمل کا ذرہ لا کر ایک جگہ ڈال دیں گے۔اس کا طبعی طور پر یہ نتیجہ نکلے گا کہ جب ساری دنیا کے خیر اکٹھے ہو جائیںگے تو وہ بھی ایک پہاڑ بن جائیں گے اور جب ساری دنیا کے شر اکٹھے ہو جائیںگے تو وہ بھی ایک پہاڑ بن جائیںگے۔گویا ان الفاظ میں اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ ا س دن کفر و اسلام کا نظامی مقابلہ ہو گا ایک طرف کفر اپنے تمام لشکر کو اکٹھا کر کے نظام قائم کرے گا اور دوسری طرف اسلام کے احیاء اور اس کی تقویت کے لئے اعمال خیر کرنے والوں کا ایک نظام قائم کیا جائے گا اور پھر ان دونوں نظاموں کا آپس میںٹکرائو ہو گا۔کفر چاہے گا کہ وہ اسلام کو ختم کر دے اور اسلام چاہے گاکہ وہ کفر کو تباہ کر دے یہ پیشگوئی جو ان آیات میںکی گئی ہے اس پر غور کر کے دیکھ لو پہلے کسی زمانہ میںیہ پوری نہیںہوئی۔نہ کفرنے اجتماعی مقابلہ کے لئے کوئی نظام قائم کیا اور نہ اسلام میںکفر کا سر کچلنے کے لئے کوئی باقاعدہ نظام قائم ہوا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کبھی چندہ کی ضرورت محسوس ہوتی تو آپ صحابہ ؓ کو اکٹھا فرماتے اور ان کے سامنے چندے کا اعلان کر دیتے۔صحابہ ؓ اسی وقت اپنی اپنی توفیق کے مطابق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میںاپنا چندہ پیش کر دیتے۔یہ نظر نہیںآتا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی بیت المال قائم کیا ہو اور ایک نظام کے ماتحت جماعت کے ہر فرد سے باقاعدہ چندہ وصول کیا جاتا ہو۔مگر اس زمانہ میںحضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ابتدائے دعویٰ میں ہی پانچ مدات قائم فرما دیںجن کا ’’فتح اسلام ‘‘میںتفصیل کے ساتھ ذکر آتا ہے۔اور لوگوں کو ہدایت فرمائی کہ وہ اسلام کے احیاء اور اس کی ترقی کے لئے ان مدات میںروپیہ ارسال کریں۔گویا آپ نے اپنی بعثت کے ساتھ ہی ایک نظام کی بنیادرکھ دی اور پھر رفتہ رفتہ اس کی بنیادوں کو اور بھی پختہ اور مضبوط بنا دیا یہاں تک آپ نے اعلان فرما دیا کہ جوشخص تین ماہ تک اس سلسلہ کے لئے کوئی روپیہ ارسال نہیںکرتا اس کا ہماری جماعت کے ساتھ کوئی تعلق نہیںسمجھا جا سکتا(مجموعہ اشتہارات جلد سوم صفحہ ۴۶۹)۔غرض اسلام کے احیاء کے لئے اللہ تعالیٰ نے ایک نظام قائم فرما دیا ہے ادھر کفر نے بھی اپنی طاقتیں جمع کر لی ہیں اور وہ اسلام کو کچلنے کے لئے مختلف قسم کی تدابیر میں منہمک ہے۔مسیحیت کی تبلیغ، آریہ سماج کی تبلیغ، سکھوں کی تبلیغ، یہودیت کی تبلیغ انفرادی طور پر نہیں ہو رہی بلکہ بڑی بڑی سوسائٹیاں لاکھوں کروڑوں روپیہ جمع کر کے باقاعدہ طور پر کر رہی ہیں۔پس فرماتا ہے جب وہ آخری زمانہ آئے گا جس میں