تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 95 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 95

پہلے کسی گائوں کے ایک کونہ میںبیٹھ کر بنیا چند لوگوں سے سود لیتا اور کسی کو اس کا علم بھی نہیں ہوتا تھا مگر اب ایسے بنک نکل آئے ہیںجن کی ساری دنیا میں شاخیں ہیں اور اس طرح سود کا جال وسیع کر کے ساری دنیا کو قابو کر لیا گیا ہے۔صنعت و حرفت بھی ہمیشہ سے چلی آتی ہے لیکن اب کمپنیوں کے ذریعہ سے اس طرح دوسرے ملکوں کا دیوالہ نکالا گیا ہے کہ غریب حیران و پریشان نظر آتے ہیں۔پہلے زمانہ میں صرف معمولی تاجر ہوا کرتے تھے لیکن اس زمانہ میں کمپنیاں نکل آئی ہیں۔پہلے خواہ کوئی کتنا بڑا تاجر ہو جائے لوگوں کو اس کا پتہ بھی نہیں لگتا تھا اور وہ لوگوں کی دولت کو بھی زیادہ نہیں کھینچ سکتا تھا۔مگر اس زمانہ میں کمپنیوں نے اس طرح دولت کھینچی ہے کہ بڑے بڑے صاحب حیثیت لوگ کمپنیوں میں ملازمت اختیار کرنا زیادہ پسند کرتے ہیں بجائے اس کے کہ انہیںگورنمنٹ سروس میںکوئی جگہ ملے۔لارڈ مانڈ انگلستان کا وزیر خزانہ تھا مگر وزارت چھوڑ کر وہ امپیریل کیمیکل انڈسٹری میںملازم ہو گیا۔اسی طرح ایک او ر مشہور شخص غالباً سر کینر نام تھا وہ بھی پہلے وزیر خزانہ تھا مگر پھر اس عہدہ سے الگ ہو کر ریلوے کمپنی میں ملازم ہو گیا۔وزارت کے عہدہ کی صورت میںاسے پانچ ہزار پونڈ ملتے تھے مگر ریلوے کمپنی میںملازمت اختیار کرنے پر اسے تیس ہزار پونڈ ملنے لگ گئے گویا قریباً پانچ لاکھ روپے سالانہ اس کی تنخواہ میں اضافہ ہو گیا۔غرض کمپنیوں نے تجارت اور صنعت و حرفت کے ذریعہ اس قدر دولت کھینچی ہے کہ پرانے زمانہ میں کسی بڑے سے بڑے صناع او ر بڑے سے بڑے تاجر کی بھی اتنی آمد نہیںہوتی تھی جتنی آج کل کمپنیوں کے نوکروں کو تنخواہیں ملتی ہیں۔پھر کمپنیوں سے ترقی کر کے ٹرسٹ بن گئے ہیں۔اور ٹرسٹ سے ترقی کرکے کارٹل بن گئے ہیںاس طرح ہر کام لوگوں نے اجتماعی رنگ میںشروع کر کے اسے کہیں سے کہیں پہنچا دیا ہے۔غرض يَصْدُرُ النَّاسُ اَشْتَاتًا نے یعنی ایک دوسرے کے بالمقابل ایک ایک کر کے نکلنے کی جگہ پارٹی پارٹی بن کر نکلنے نے وہ نمونہ دکھایا ہے کہ دنیا نے کبھی نہ دیکھا تھا۔یہ پارٹیاں خیر کا کام کرتی ہیں تو وہ بھی ایک عظیم الشان شکل میںظاہر ہوتا ہے اور اگر برا کام کرتی ہیں تو وہ بھی ایک مہیب اور دل پر کپکپی نازل کر دینے والی شکل میں نظر آتا ہے۔چونکہ مومن بھی اس دن مل کر کام کریں گے اس لئے ان کے خیر کے نتائج بھی بڑے شاندار ہوں گے بلکہ چونکہ خیر کا دس گنا اجر ہے اس لئے ان کے خیر کے نتائج شر کے نتائج پر غالب آجائیںگے۔فَمَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ کے معنے ترتیب آیات کے علاوہ یہ معنے تو ترتیب کے لحا ظ سے ہوئے۔یوں بھی اپنی ذات میںیہ آیت نہایت اہم ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس آیت کی نسبت فرماتے ہیں آپ سے گدھوں کے بارہ میں پوچھا گیا کہ ان کے رکھنے کا کیا ثواب ہے تو فرمایا مَا اَنْزَل اللہُ فِیْـھَا شَیْئًا اِلّ