تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 92 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 92

فَمَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَّرَهٗؕ۰۰۸ پھر جس نے ایک ذرہ کے برابر (بھی ) نیکی کی ہوگی وہ اس (کے نتیجہ) کو دیکھ لے گا۔وَ مَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَّرَهٗؒ۰۰۹ اور جس نے ایک ذرہ کے برابر (بھی )بدی کی ہو گی وہ اس (کے نتیجہ ) کو دیکھ لے گا۔تفسیر۔فرماتا ہے لوگوں کے اکٹھا کام کرنے سے ہمارے اس قانون کی سچائی ثابت ہو گی کہ جو شخص ایک ذرہ بھر بھی عمل خیر دوسروں کے ساتھ مل کر کرے گا وہ اس کا نتیجہ دیکھ لے گا اور جو شخص ایک ذرہ بھر بھی عمل شر دوسروں کے ساتھ مل کر کرے گا وہ اس کا نتیجہ دیکھ لے گا۔یعنی اس زمانہ میںچونکہ ہر شخص اپنی پارٹی سے مل کر کام کرے گا اس لئے ہر قسم کے کام کا نتیجہ نمایا ں نکلے گا۔کیونکہ مشترک کام ذرہ ذرہ مل کر بھی پہاڑ ہو جاتا ہے الگ کیا ہوا کام ذرہ کے مطابق ہو تو اس کا نتیجہ محسوس کرنا مشکل ہوتا ہے مگر وہ ذرہ بھر کام جو قوم کے ساتھ مل کر کیا ہو چھپ نہیںسکتا کیونکہ دوسروں کے ذروں سے مل کر وہ پہاڑ بن جاتا ہے۔پس فرماتا ہے چونکہ اس دن پارٹیاں مل کر کام کریںگی ہر کام کا نتیجہ نمایا ں نظر آئے گا اور عمل کاایک ذرہ بھی ضائع نہیںہو گا اس میںکوئی شبہ نہیں کہ انسانی عمل کا ایک ذرہ دنیا میں کوئی قیمت نہیںرکھتا اور وہ ہوا میں اڑ کر لوگوں کی نظروں سے غائب ہو جاتا ہے لیکن جب ایک گروہ کا گروہ اپنا اپنا ذرہ لے آئے تو ہر ذرہ دوسرے ذرات کے ساتھ مل کر ایک پہاڑ کی صورت اختیار کر لیتا ہے اور اس طرح کوئی ذرہ بھی نمایاں ہونے سے نہیںرہ سکتا۔یہ مضمون در حقیقت گذشتہ آیت کے تسلسل میںہی ہے اور اللہ تعالیٰ یہ بیان فرماتا ہے کہ اس دن يَصْدُرُ النَّاسُ اَشْتَاتًا کا کیوں ظہور ہو گا۔فرماتا ہے یہ ظہور اس لئے ہو گا تا ہمارے اس قانون کی سچائی نمایاں ہو جائے کہ دنیا میںجو شخص چھوٹے سے چھوٹا عمل بھی کرتا ہے وہ اس کا نتیجہ دیکھ لیتا ہے خواہ وہ عمل خیر ہو یا عمل شر اگر انفرادی اعمال خیر اور انفرادی اعمال شر پر اس آیت کو چسپاں کیا جائے تو اس کے کوئی معنے ہی نہیںبنتے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ قیامت کے دن ہر شخص کا عمل خیر اور ہر شخص کا عمل شر نمایا ں ہو گااور ہم بھی اس کو تسلیم کرتے ہیںلیکن دنیا میںایسا نہیںہوتا۔دنیا میں لوگ بڑے بڑے خیر کے کام کرتے ہیں اور وہ چھپے رہتے ہیں۔اسی طرح بڑے بڑے شر کے کام کرتے ہیں اور وہ چھپے رہتے ہیں۔اگر دنیا میںہر خیر اور ہر شر نمایاں ہو تو لوگوں کو گناہوں پر دلیری ہی کیوں پیدا ہو۔ہزاروں لوگ ایسے پائے جاتے ہیںجو بڑے بڑے خیر کے کام کرتے ہیں مگر چونکہ وہ فرداً