تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 91
پہلے زمانہ میں جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ میں ابو جہل اٹھا اور وہ اپنی تمام کوششوں اور منصوبہ بازیوں کے باوجود ناکام و نامراد ہوا اور ناکامی و نامرادی کی حالت میںہی مرا۔تو گو اللہ تعالیٰ کا یہ ایک بہت بڑا نشان تھا جو ظاہر ہوا اور جس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کو آفتاب نصف النہار کی طرح ظاہر کر دیا مگر پھر بھی یہ انفرادی مقابلہ تھا قومی نہیں۔قومی مقابلہ ہجرت کے بعد شروع ہوا جس نے کفار عرب کی مجموعی طاقت کو توڑ دیا۔اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانہ میںبے شک آپ کا شدید مقابلہ ہوا مگر اس وقت مقابلہ کی تمام تر صورت انفرادی جدوجہد تک محدود تھی۔مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی الگ مقابلہ کر رہے تھے۔مولوی ثناء اللہ صاحب الگ مقابلہ کر رہتے تھے۔مولوی نذیر حسین صاحب دہلوی الگ مقابلہ کر رہے تھے۔بےشک اَلْکُفْرُ مِلَّۃٌ وَّاحِدَۃٌ کے مطابق ان تمام کے تیروں کا نشانہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ہی ذات تھی لیکن بہر حال انہوں نے آپ کا اکٹھا مقابلہ نہیں کیا۔ہر شخص الگ الگ شہر میںالگ الگ رنگ میں مقابلہ کر رہا تھا۔مولوی محمد حسین صاحب کسی رنگ میں مخالفت کر رہے تھے تو مولوی نذیر حسین صاحب دہلوی کسی اور رنگ میں۔احمدیت کے مقابلہ پر اجتماعی جدوجہد مگر چونکہ یہ زمانہ وہ تھا جس میں يَوْمَىِٕذٍ يَّصْدُرُ النَّاسُ اَشْتَاتًا کی پیشگوئی کا ظہور ہونے والا تھا اسی لئے اللہ تعالیٰ نے ۱۹۳۴ ء میںاحرار کو جماعت احمدیہ کے مقابلہ کے لئے کھڑا کر دیا اور انہوں نے اعلان کیا کہ ہم جماعت احمدیہ کو کچل کر رکھ دیں گے۔پہلے کیا تھا، پہلے کوئی لدھیانہ میں مخالفت کر رہا تھا۔کوئی لاہور میںمخالفت کر رہا تھا کوئی دہلی میں مخالفت کر رہا تھا کوئی بٹالہ میں مخالفت کر رہا تھا۔اب ہم مل کر احمدیت کو صفحہ ہستی سے مٹا ڈالیںگے (تاریخ احرار صفحہ ۱۲۶)چنانچہ احرار کے ساتھ کانگرس بھی مل گئی۔اور پھر کسی مصلحت کے ما تحت حکومت بھی ان کے ساتھ مل گئی۔یہ مخالفت کا طوفان درحقیقت مظاہرہ تھا يَوْمَىِٕذٍ يَّصْدُرُ النَّاسُ اَشْتَاتًا کا۔لیکن اس کا جو نتیجہ نکلا وہ خدا تعالیٰ کے فضل اور حمایت ِ احمدیت کو ظاہر کر رہا ہے۔اب شیعوں نے ہمارے مقابلہ میں سر نکالنا شروع کر دیا ہے۔اور وہ بھی احرار کی طرح یہ سمجھنے لگے ہیں کہ ہم جماعت احمدیہ کو کچل دیںگے۔غرض وہ مقابلہ جو پہلے انفرادی رنگ میںکیا جاتا تھا اب قومی مقابلوں کے رنگ میں تبدیل ہو چکا ہے اور احمدیت اپنی جدوجہد کے سلسلہ میںاسی منزل میں سے گذر رہی ہے۔