تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 81
آئے آپ ؐسے باتیں کرتے رہے اور صحابہ نے ان کو اچھی طرح دیکھا۔جب وہ چلے گئے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ذَالِکَ جِبْـرِیْلُ وہ جبریل تھے جو تمہیں دین کی باتیں سکھانے آئے۔ا س کلام کو صحابہ ؓ نے بھی سنا اور فرشتہ کو بھی دیکھا۔(مسلم کتاب الایـمان باب الایمان ماھو وَ بیان خصالہٖ) (۲۲) خواب، کلام اور حقیقت ظاہر تینوں کا اشتراک بعض دفعہ ایک نظارہ میں تینوں صورتیںجمع کر دی جاتی ہیں۔اس میں خواب بھی ہوتی ہے، اس میںکلام بھی ہوتا ہے اور اس میں حقیقت ظاہر بھی ہوتی ہے۔جیسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ سرخی کے چھینٹوں والا واقعہ پیش آیا جس کے نشانات آپ کے کرتہ پر بھی پائے گئے۔اس میں تینوں باتیں موجود تھیں۔یعنی خواب میں ایک نظارہ بھی دکھایا گیا۔اللہ تعالیٰ نے آپ سے بات بھی کی اور پھر ظاہر میں سرخی کے چھینٹوں کا نشان قائم کر دیا۔پس وحی کی بائیسویں قسم وہ ہے جس میںخواب، کلام اور حقیقت ظاہر تینوں کا اشتراک پایا جاتا ہے۔(۲۳) وحی کی تیئیسویں قسم وحی قلبی خفی ہے یعنی وہ وحی جس میںالفاظ نہیں ہوتے صرف دل پر اللہ تعالیٰ کے منشا کا القاء ہوتا ہے۔جیسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ فرمایا کہ روح القدس کی طرف سے فلاں بات میرے دل میںڈال دی گئی ہے اور اب مجھے اس میں کسی قسم کا تردد نہیں۔یہ الفاظ صاف بتاتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ وحی الفاظ کی شکل میں نازل نہیں ہوئی بلکہ یہ صرف قلبی وحی تھی جو القاء کی صورت میں نازل ہوئی۔وحی کا مفہوم سمجھنے سے بہائیوں کو دھوکہ اس وحی کے متعلق یہ امر یاد رکھنا چاہیے کہ یہ وحی دوسری وحیوں کے ساتھ مل کر آتی ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ وحی دوسری وحیوں کے بعد آتی ہے تا کہ لوگوں کو کسی قسم کا دھوکہ نہ لگے۔بہائیوں کو تمام تر دھوکہ اسی آخری تیئیسویں وحی کی حقیقت کو نہ سمجھنے کی وجہ سے لگا ہے ہم اس وحی سے انکار نہیں کر سکتے کیونکہ ہمارا اپنا تجربہ بھی یہی ہے کہ اس قسم کی وحی ہوتی ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ارشادات سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ وحی کی ایک قسم قلبی خفی وحی بھی ہے۔پس ہم یہ تو نہیںکہہ سکتے کہ بہائی جس وحی کا ادّعا کرتے ہیں اس کا کوئی وجود ہی نہیں۔مگر ہم یہ ضرور کہیںگے کہ بہائیوں نے اس وحی کی حقیقت کو نہیںسمجھا۔وہ اپنے دل کے ہر خیال کا نام وحی رکھنے کے عادی ہیں۔چنانچہ بہاء اللہ کے دل میں جو خیال آتا تھا وہ کہہ دیتے تھے کہ یہ وحی ہے۔اسی طرح وہ جو کچھ لکھتے ہیںاس کو وحی قلبی خفی قرار دے دیتے ہیں۔ہمیںچونکہ خود اعتراف ہے کہ وحی کی ایک قسم وہ بھی ہوتی ہے جس میں الفاظ نازل نہیں ہوتے صرف قلب