تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 80 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 80

ہیں۔یعنی کبھی اتنے جلال سے خدا تعالیٰ کا کلام نازل ہوتا ہے کہ ادھر وہ قلب پر گررہا ہوتا ہے ادھر کانوں پر نازل ہورہا ہوتا ہے اور پھر تیسری طرف زبان بھی اس کو دہراتی چلی جاتی ہے۔(۱۵) کلام بالواسطہ جو نظر آنے والے فرشتہ کے ذریعہ سنایا جاتا ہے اس کلام میںواسطہ پیدا کر دیا جاتا ہے۔بجائے اس کے کہ انسان براہ راست اللہ تعالیٰ کے کلام کو سنے اسے فرشتہ نظر آتا ہے جو کہتا ہے کہ بات یوں ہے جیسے غار حرا میںہوا۔(۱۶) کلام بالواسطہ جو نظر آنے والے فرشتہ کے ذریعہ دکھایا جاتا ہے جیسے بعض حدیثوں میں ذکر آتا ہے کہ غار حرا میں جبریل نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حریر پر لکھی ہوئی ایک تحریر بھی دکھائی(درمنثور سورۃ العلق زیر آیت اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ) (۱۷) کلام بالواسطہ جو نہ نظر آنے والے فرشتہ کے ذریعہ سنایا جا تا ہے اس میں کوئی فرشتہ نظر نہیں آتا مگر آواز سنائی دیتی ہے کہ میں ایسا کہتا ہوں یا فرشتہ کہتا ہے کہ مجھے خدا نے یہ بات پہنچانے کا حکم دیا ہے۔(۱۸) کلام بالواسطہ جو نہ نظر آنے والے فرشتہ کے ذریعہ دکھایا جاتا ہے آنکھوں کے سامنے تختی آتی ہے جس پر کچھ لکھا ہو ا ہوتا ہے اور صاف پتہ لگتاہے کہ کسی اور ہاتھ نے اس کو آگے کر دیا ہے مگر فرشتہ نظر نہیں آتا۔(۱۹) کلام بالواسطہ جو نظر آنے والے فرشتہ کے ذریعہ سے یقظہ میں سنایا جاتا ہے اور دوسرے اس میں شریک نہیں ہوتے یعنی انسان کے حواس ظاہری پور ا کام کر رہے ہوتے ہیں کہ اسے فرشتہ نظرآتا ہے جو اللہ تعالیٰ کا کلام سناتا ہے مگر کوئی دوسراشخص اس میں شریک نہیں ہوتا نہ وہ فرشتہ کو دیکھتا ہے اور نہ اس کی آواز سن سکتا ہے۔(۲۰) کلام بالواسطہ جو نظر آنے والے فرشتہ کے ذریعہ سنایا جاتا ہے۔اور دوسرے اس میں سماعاً شریک ہوتے ہیں رؤیۃً نہیں۔بخاری میںآتا ہے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی سے باتیں کرتے سنا۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ آپؐکس سے باتیں کر رہے ہیں۔آپؐنے فرمایا جبریل آیا ہے جو مجھ سے باتیں کر رہا ہے اور وہ تمہیںالسلام علیکم کہتا ہے۔(بخاری کتاب فضائل اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم باب فضل عائشہ رضی اللہ عنہا) اب دیکھو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے با تیں سن لیں مگر انہیں فرشتہ نظر نہ آیا۔پس یہ وہ قسم ہے جس میں اور لوگ سماعاً تو شریک کردیئے جاتے ہیں مگر رؤیۃً نہیں۔(۲۱) کلام بالواسطہ جو نظر آنے والے فرشتے کے ذریعہ سے سنایا جاتا ہے اور دوسرے لوگ اس میں سماعاً و رؤیۃً شریک ہوتے ہیں جیسے دحیہ کلبی کی شکل میںجبریل کے آنے کا واقعہ ہے۔وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں