تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 82 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 82

میںاللہ تعالیٰ کی طرف سے القاء کیا جاتا ہے اس لئے وہ بعض دفعہ لوگوں کو دھوکہ دینے میںکامیاب ہو جاتے ہیں۔بہائیوں کے ساتھ بحث کرنے میں ایک حربہ مگر ایک بات ایسی ہے جو اس بحث کے سلسلہ میں ہماری جماعت کے دوستوں کو یاد رکھنی چاہیے اور جو بہائیوں کے پھیلائے ہوئے زہر کے ازالہ میںبہت کام آسکتی ہے اور وہ یہ کہ مامورین کے تجربہ میں یہ بات آئی ہے کہ یہ وحی دوسری وحیوں کے ساتھ مل کر آتی ہے اکیلی نہیںآتی۔اگر اکیلی آجائے توہر آدمی کہہ سکتا ہے کہ مجھے بھی وحی ہوتی ہے اور پھر یہ امتیاز کرنا مشکل ہو جائے کہ کون سچ بول رہا ہے اور کون جھوٹ سے کام لے رہا ہے اس نقص کے ازالہ کے لئے اللہ تعالیٰ نے یہ صورت رکھی ہے کہ وہ پہلے اپنے بندہ پر اور قسموں کی وحی نازل کرتا ہے اور جب اس میں بیان کردہ واقعات کے پورا ہونے سے لوگوں کو یہ یقین آجاتا ہے کہ فلاں شخص سچ بول رہا ہے تو اس کے بعد اس پر وحی قلبی خفی بھی نازل کر دیتا ہے۔یہ نہیں ہوتا کہ اسے اپنی سچائی کا اور تو کوئی نشان نہ دیا جائے اور صرف قلبی خفی وحی اس کی طرف نازل کرنی شروع کر دی جائے۔اور یہ لفظی وحی کے مقابلہ پر کمیت میںبہت ہی کم ہوتی ہے۔وحی خفی کی پہچان میںاس کو ایک مثال سے واضح کرتا ہوں۔میرے پاس ایک دفعہ عبدا للہ تیما پوری آئے اور کہنے لگے آپ مجھے کیوں نہیں مانتے اور مرزا صاحب کو کیوں مانتے ہیں۔میں نے کہا مرز ا صاحب کو ہم اس لئے مانتے ہیںکہ آپ کی صداقت کے ہم نے متواتر نشانات دیکھے اور ہمیں یقین آگیا کہ آپ سچے ہیں۔کہنے لگے یہ تو بعد کی باتیں ہیں شروع شروع میںجو لوگ آپ پر ایمان لائے تھے انہوں نے کون سا نشان دیکھا تھا؟ مثلاً حضرت مولوی نورالدین صاحبؓآپ پر ایمان لائے سوال یہ ہے کہ وہ کس نشان کو دیکھ کر آپ کی صداقت کے قائل ہوگئے تھے ؟ میں نے کہا دنیا میں بعض ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو ابو بکر ؓ کی طرح نشانات دیکھنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے بلکہ وہ سمجھتے ہیں اگر ہم نشانا ت دیکھ کر ایمان لائے تو اس سے ہمارا درجہ کم ہو جائے گا۔چنانچہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے متعلق حدیثوں میںصاف طور پر آتا ہے کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دعویٰ نبوت کی ان کو خبر پہنچی اور وہ آپ سے یہ دریافت کرنے آئے کہ کیا یہ درست ہے کہ آپ نے الہام کا دعویٰ کیا ہے تو اس وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چاہا کہ اپنی صداقت کے متعلق کچھ وضاحت فرمائیں مگر حضرت ابو بکر ؓ نے آپ کو روک دیا اور کہاآپ صرف اتنا بتائیںکہ کیا آپ نے دعویٰ کیا ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کے نبی ہیں اور جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں تو حضرت ابو بکرؓ نے کہا یا رسول اللہ میں آپ پر ایمان لاتا ہوں اور پھر کہا میں نے اس لئے دلائل سننے سے انکار کیا تھا کہ اگر میں دلائل سن کر ایمان لاتا تو میں اپنے ایمان کے کمزور ہونے کا