تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 62
تعلق رکھتے تھے وہ براہِ راست موسیٰ کو ہی ہوتے تھے۔اور پھر موسیٰ علیہ السلام ان احکام کو حضرت ہارونؑ تک پہنچاتے تھے۔گویا ہارون موسیٰ کو یہ کہنے کا حق نہیں رکھتے تھے کہ مجھے آج فلاں وحی ہوئی ہے۔آپ اس کے مطابق عمل کریں۔ہاں موسیٰ یہ حق رکھتے تھے کہ ہارون کو اللہ تعالیٰ کی وحی سے باخبر کریں اور انہیں اس کے مطابق عمل کرنے کی تاکید کریں۔البتہ ہارون چونکہ اللہ تعالیٰ کے نبی تھے اس لئے بعض دفعہ ان پر بھی وحی نازل ہوجاتی تھی مگر ایسی ہی جس کا شریعت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہوتا تھا۔آخر وحی کی صرف اتنی ہی غرض تو نہیں ہوتی کہ اس میں شریعت کے احکام بیان کئے جائیں۔بلکہ وحی اس لئے بھی نازل ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ بندہ سے اپنی محبت اور پیار کا اظہار کرنا چاہتا ہے اس کے ایمان کو ترقی دینا چاہتا ہے، اس کے عرفان اور یقین میں زیادتی پیدا کرنا چاہتا ہے۔پس ہارون چونکہ اللہ تعالیٰ کے نبی تھے اس لئے بعض دفعہ ان پر بھی اس قسم کی وحی نازل ہوجاتی تھی جو غیرتشریعی ہوتی اور جس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ ان سے اپنی محبت اور پیار کا اظہار کرتا۔مگر بہرحال شرعی وحی صرف موسٰی پر نازل ہوتی تھی اور حضرت موسٰی وہ وحی ہارونؑ کو سنادیتے۔غرض مفردات والوں نے اس آیت کی تشریح میں تابع اور متبوع کا فرق بیان کردیا ہے اور وہ مسئلہ جس میں ہمارا پیغامیوں سے دیر سے نزاع چلا آرہا ہے اس کا نہایت عمدگی کے ساتھ فیصلہ کردیا ہے۔وَ قَوْلُہٗ اِذْ يُوْحِيْ رَبُّكَ اِلَى الْمَلٰٓىِٕكَةِ اِنِّيْ مَعَكُمْ فَذَالِکَ وَحْیٌ اِلَیْـھِمْ بِوَسَاطَۃِ اللَّوْحِ وَالْقَلَمِ۔اور یہ جو قرآن کریم میں آتا ہے کہ تیرا رب ملائکہ کی طرف وحی کرتا ہے اور ان سے کہتا ہے کہ اِنِّيْ مَعَكُمْ میں تمہارے ساتھ ہوں۔یہ وحی ان کی طرف لوح و قلم کے واسطہ سے ہوتی ہے۔اس کے بعد کہتے ہیں فِیْـمَا قِیْلَ یعنی بعض لوگوں کا یہی خیا ل ہے مجھے تو اس عقیدہ کے ساتھ اتفاق نہیں مگر پرانے مفسرین کا یہی خیال تھا کہ خدا تعالیٰ نے سب سے پہلے قلم کو حکم دیا اور اس نے لوح پر وہ سب کچھ لکھ دیا جو دنیا میںہونے والا تھا۔اب ملائکہ جو کچھ پہنچاتے ہیں وہ اسی لوح سے ماخوذ ہوتا ہے۔گویا ان کے نزدیک وحی کا پہلا نزول قلم پر ہوا۔قلم سے لوح پر لکھا گیا اور پھر لوح سے ملائکہ اخذ کرتے اور اللہ تعالیٰ کے منشاء کے مطابق اس کے احکام اور پیغام دنیا میں پھیلاتے ہیں۔میرے نزدیک یہ عقیدہ ایسا ہے جس کی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعض احادیث سے تردید ہوتی ہے۔مثلاً حدیثوں میں آتا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو سب سے پہلے جبریل کو کہتا ہے کہ میں فلاں بندے سے محبت کرتا ہوں اس کے بعد جبریل اور فرشتوں کو اطلاع دیتا ہے۔وہ فرشتے اور فرشتوں کو خبر دیتے ہیں۔یہاں تک کہ ہوتے ہوتے یہ بات تمام فرشتوں میں پھیل جاتی ہے اور اس شخص کی لوگوں میں مقبولیت پیدا ہوجاتی ہے۔(بخاری کتاب الادب باب المقۃ من اللہ تعالٰی )