تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 61
پیغامیوں کے ساتھ ایک نزاع کا فیصلہ پیغامیوں کی طرف سے ہمیشہ یہ بات پیش کی جاتی ہے کہ نبی کسی کا متبع نہیں ہوتا۔(النبوۃ فی الاسلام صفحہ ۴۳) میں نے اس کے جواب میں انہیں بارہا کہا ہے کہ تمہاری یہ بات بالکل غلط ہے تم حضرت ہارون علیہ السلام کی طرف دیکھو وہ نبی تھے مگر باوجود نبی ہونے کے حضر ت موسیٰ علیہ السلام کے تابع تھے۔پس تمہاری یہ بات درست نہیں کہ نبی کسی کا تابع نہیں ہوسکتا۔اگر درست ہوتی تو حضرت ہارونؑ موسٰی کے کس طرح متبع ہوجاتے۔ہارونؑ تو موسٰی کے اس قدر متبع تھے کہ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام پہاڑ پر گئے اور ان کی قوم شرک میں مبتلا ہوگئی تو وہ سخت ناراضگی اور غضب کی حالت میں واپس آئے اور حضرت ہارون علیہ السلام سے نہایت سختی کے ساتھ کہا کہ اَفَعَصَيْتَ اَمْرِيْ(طٰہٰ:۹۴) کیا میرے صریح حکم کی اس طرح خلاف ورزی کی جاتی ہے؟ اگر وہ متبع نہ ہوتے تو حضرت موسٰی ان پر کس طرح خفا ہوسکتے تھے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کا خفا ہونا اور ان سے جواب طلب کرنا بتاتا ہے کہ وہ موسٰی کے تابع تھے۔پس یہ صحیح نہیں کہ نبی کسی کا تابع نہیں ہوسکتا۔پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر حضرت ہارونؑ موسٰی کے تابع نہیں تھے تو دونوں پر وحی کس طرح نازل ہوتی تھی؟ اس کے جواب میں غیر مبائعین یہ کہا کرتے ہیں کہ دونوں پر برابر وحی نازل ہوتی تھی۔جو وحی موسٰی پر ہوتی تھی وہی وحی ہارونؑ پر بھی نازل کردی جاتی تھی۔تورات بھی دونوں پر اترتی تھی۔ادھر موسٰی پر تورات کا نزول ہوتا تھا اور ادھر ہارونؑ پر تورات کا نزول ہوتا تھا۔یہ بات اتنی احمقانہ ہے کہ اسے سن کر حیرت آتی ہے کہ ایک ہی وقت ایک ہی کلام دو مختلف انسانوں پر بغیر کسی حکمت کے نازل کیا جاتا ہو۔گویا نعوذباللہ خدا تعالیٰ کو شبہ تھا کہ ایسا نہ ہو میں کسی ایک کی طرف وحی نازل کروں تو وہ دوسرے کو جھوٹ بول کر کچھ اور بتادے۔اس لئے خدا تعالیٰ کو یہ احتیاط کرنی پڑی کہ ادھر موسٰی پر وہ کلام نازل کرتا اور ادھر ہارونؑ پر نازل کرتا تاکہ اگر موسیٰ جھوٹ بولے تو ہارون پکڑ لے اور ہارون جھوٹ بولے تو موسیٰ پکڑلے۔مگر مفردات والوں نے اس مسئلہ کو بالکل صاف کردیا ہے۔وہ لکھتے ہیں کہ قرآن کریم میں جو یہ آیت آتی ہے کہ اَوْحَيْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰى وَ اَخِيْهِ ہم نے موسیٰ اور اس کے بھائی ہارون کی طرف وحی کی اس سے کیا مراد ہے؟ آیا یہ مراد ہے کہ موسیٰ کو الگ وحی کی اور ہارون کو الگ۔تورات ادھر موسیٰ پر نازل کی جاتی تھی اور ادھر ہارون پر یا اس سے کچھ اور مراد ہے۔وہ لکھتے ہیں کہ اس سے مرا یہ ہے کہ موسیٰ کی طرف جو وحی ہوتی تھی وہ جبریل کے واسطہ سے تھی یعنی موسٰی پر جبریل کی حفاظت میں وحی نازل ہوتی تھی۔اس کے بعد موسٰی وہ بات ہارونؑ تک پہنچادیتے تھے اور موسیٰ کی معرفت اس الہام کا ہارون تک پہنچ جانا ہی ہارون کی وحی تھا۔مگر چونکہ ہارون خود بھی نبی تھے اس لئے کبھی کبھی انہیں اپنے طور پر بھی الہام ہوجاتا تھا۔مگر وہ الہامات جو شریعت اور احکام کے ساتھ