تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 63
اگر لوح پر ہی سب کچھ لکھا ہوا ہو تو پھر اللہ تعالیٰ کو جبریل سے کچھ کہنے کی ضرورت نہیں رہتی وہ خودبخود لوح سے تمام حالات معلوم کرسکتے ہیں۔بہرحال یہ پرانے مفسرین کا عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے اپنی وحی قلم پر نازل کی، قلم سے لوح پر لکھا گیا اور لوح سے فرشتے پڑھ پڑھ کر بندوں پر وحی نازل کرتے ہیں۔وَقَوْلُہٗ وَاَوْحٰی فِیْ کُلِّ سَـمَاءٍ اَمْرَھَا فَاِنْ کَانَ الْوَحْیُ اِلٰی اَھْلِ السَّمَاءِ فَقَطْ فَالْمُوْحٰی اِلَیْـھِمْ مَـحْذُوْفٌ ذِکْرُہٗ کَاَنَّہٗ قَالَ اَوْحٰی اِلَی الْمَلٰئِکَۃِ لِاَنَّ اَھْلَ السَّمَاءِ ھُمُ الْمَلٰئِکَۃِ وَیَکُوْنُ کَقَوْلِہٖ اِذْ یُوْحِیْ رَبُّکَ اِلَی الْمَلٰئِکَۃِ وَ اِنْ کَانَ الْمُوْحٰی اِلَیْہِ ھِیَ السَّمٰوٰتُ فَذَالِکَ تَسْخِیْـرٌ عِنْدَ مَنْ یَّـجْعَلُ السَّمَاءَ غَیْـرَ حَیٍّ وَ نُطْقٍ عِنْدَ مَنْ جَعَلَہٗ حَیًّا۔اور یہ جو قرآن کریم میں آتا ہے کہ اَوْحٰى فِيْ كُلِّ سَمَآءٍ اَمْرَهَا اللہ تعالیٰ نے ہر سماء میں وحی کے ذریعہ اپنا حکم بھیج دیا۔اگر اس آیت میں سماء سے اہل سماء مراد لئے جائیں تو چونکہ اہل سماء ملائکہ ہوتے ہیں اس لئے عربی زبان میں اَوْحٰى فِيْ كُلِّ سَمَآءٍ اَمْرَهَا کا ترجمہ یوں ہوگا کہ اَوْحٰی اِلَی الْمَلٰئِکَۃِ اُمُوْرًا مُّتَعَلِّـقًا بِالسَّمَاءِ۔اس نے ملائکہ کی طرف ان امور کے بارہ میں وحی کی جن کا آسمان کے ساتھ تعلق تھا۔اس مفہوم کی صورت میں قرآن کریم کی یہ آیت بھی اس کے ہم معنی سمجھی جائے گی کہ اِذْ یُوْحِیْ رَبُّکَ اِلَی الْمَلٰئِکَۃِ لیکن اگر کوئی شخص مُوْحٰی اِلَیْہِ سے مراد سماوات لے تو ان کے متعلق بھی یہ کلام ہوسکتا ہے مگر اس صورت میں حذفِ اضافت کی ضرورت نہیں ہوگی۔بلکہ سماوات کو موحٰی الیہ تسلیم کرنے کی صورت میں اس کے د۲و معنے ہوں گے۔وہ جن کے نزدیک سماوات کوئی زندہ وجود نہیں۔وہ تو اس سے تسخیر مراد لیتے ہیں یعنی اَوْحٰى فِيْ كُلِّ سَمَآءٍ اَمْرَهَا کا مطلب ان کے نزدیک یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بعض کاموں کے متعلق سماوات کو مسخر کردیا ہے اور اسی تسخیر کو وحی قرار دیا گیاہے۔لیکن وہ لوگ جو آسمانوں کو زندہ وجود قرار دیتے ہیں ان کے نزدیک اس کے معنے تسخیر کے نہیں بلکہ یہ مراد ہوں گے کہ خدا تعالیٰ نے ان سے کلام کیا۔وَقَوْلُہٗ بِاَنَّ رَبَّکَ اَوْحٰی لَھَا فَقَرِیْبٌ مِّنَ الْاَوَّلِ اور یہ جو اللہ تعالیٰ نے زمین کے متعلق فرمایا ہے کہ بِاَنَّ رَبَّكَ اَوْحٰى لَهَا اس میں وحی کے معنے تسخیر کے ہی کرنے پڑیں گے کیونکہ یہ ظاہر بات ہے کہ زمین بولتی نہیں اور نہ اس میں عقل پائی جاتی ہے۔پس چونکہ زمین کی طرف بولنا منسوب کردیاگیا ہے حالانکہ وہ بولتی نہیں اور اس کی طرف عقل منسوب کردی گئی ہے حالانکہ اس میں عقل نہیں۔اس لئے یہ حالات ہمیں مجبور کرتے ہیں کہ ہم یہاں مجازی معنے مراد لیں اور سمجھ لیں کہ اس جگہ وحی سے وحیٔ حقیقی یا وحیٔ لفظی مراد نہیں بلکہ اَوْحٰی کا لفظ زمین کو مسخر کرنے کے معنے میں استعمال ہوا ہے۔(مفردات) وحی کی اقسام کے متعلق نصّ قرآنی وحی کے معنے عربی زبان میں تو اوپر بیان ہوچکے ہیں۔اب میں اپنے معنے