تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 60
دے گا۔مثلاً وہ یہی کہہ دے کہ مجھ سے جبریل اسی طرح کلام کرتا ہے جس طرح اس نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کلام کیا تھا یا کہے کہ الفاظ معینہ مجھ پر نازل ہوتے ہیں یا یہ کہے کہ حالت منام میں مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے مختلف باتیں بتائی جاتی ہیں اور واقعہ یہ ہو کہ نہ جبریل اس سے کلام کرتا ہو نہ الفاظ معینہ اس پر نازل ہوتے ہوں نہ تمثیلی نظاروں میں اسے غیب کی خبروں سے مطلع کیاجاتا ہو تو ایسا شخص یقیناً قرآنی وعید کے ماتحت آئے گا۔لیکن اگر وہ یہ کہتا ہے کہ میرے دل میں جو بھی خیال اٹھتا ہے وہ وحی ہے تو چونکہ یہ قرآنی وحی کی قسموںمیںشامل نہیں اور چونکہ اس طریق سے نہ کسی نبی کی نبوت مشتبہ ہوتی ہے اور نہ کسی دانا شخص کو دھوکا لگ سکتا ہے اس لئے اللہ تعالیٰ کو اسے عذاب دینے کی ضرورت بھی نہیں ہوتی۔ہرانسان اپنی عقل سے کام لے کر فوراً فیصلہ کرسکتا ہے کہ وہ پاگل ہے یا شرارتی۔اس میں دھوکا لگنے کا کوئی امکان نہیں ہوتا۔ہاں اگر وہ یہ کہے کہ مجھ پر جبریل نازل ہوتا ہے اور وہ مجھے اللہ تعالیٰ کا کلام پہنچاتا ہے یا کہے کہ خدا تعالیٰ میرے کانوں پر یا میری زبان پر معین الفاظ میں اپنا کلام نازل کرتا ہے یا حالت منام میں غیب کی خبروں سے اطلاع دیتا ہے تب بے شک اس پر عذاب نازل ہوگا۔یہ بہت عمدہ استدلال ہے جو مفردات والوں نے کیا ہے۔وحدانیت کی وحی کے متعلق امام راغب کا خیال اور اس کی تردید پھر لکھتے ہیں یہ جو قرآن کریم میں آتا ہے کہ وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا نُوْحِيْۤ اِلَيْهِ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاعْبُدُوْنِ (الانبیاء:۲۶) ہم نے تجھ سے پہلے کوئی رسول نہیں بھیجا مگر ہم ہمیشہ اس کی طرف یہ وحی نازل کرتے رہے ہیں کہ سوائے میرے اور کوئی خدا نہیں تم ہمیشہ میری ہی عبادت کیاکرو۔فَھٰذَا الْوَحْیُ ھُوَ عَامٌّ فِیْ جَـمِیْعِ اَنْوَاعِہٖ وَذَالِکَ اَنَّ مَعْرِفَۃَ وَحْدَانِیَّۃِ اللہِ تَعَالٰی وَمَعْرِفَۃَ وُجُوْبِ عِبَادَتِہٖ لَیْسَتْ مَقْصُوْرَۃً عَلَی الْوَحْیِ الْمُخْتَصِّ بِاُولِی الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ بَلْ یُعْرَفُ ذَالِکَ بِالْعَقْلِ وَالْاِلْھَامِ کَمَا یُعْرَفُ بِالسَّمْعِ فَاِذَا الْقَصْدُ مِنَ الْاٰیَۃِ تَنْبِیْہٌ اَنَّہٗ مِنَ الْمَحَالِ اَنْ یَّکُوْنَ رَسُوْلٌ لَا یَعْرِفُ وَحْدَانِیَّۃَ اللہِ وَوُجُوْبَ عِبَادَتِہٖ۔یعنی اس آیت میں جو وحی کا لفظ ہے اس سے لفظی وحی مراد نہیں بلکہ انبیاء کی فطرت میں اللہ تعالیٰ نے جو توحید کا مادہ رکھا ہوا ہوتا ہے وہ مراد ہے اور آیت کا مطلب یہ ہے کہ اس فطرتی مادہ کے مطابق ہر نبی کو یہ علم ہوتا ہے کہ میں نے اللہ تعالیٰ کی ہی عبادت کرنی ہے اور کسی کی عبادت نہیں کرنی۔گویا ان کے نزدیک اس جگہ وحی سے مخصوص وحی مراد نہیں بلکہ مراد یہ ہے کہ ہر نبی کی فطرت میں یہ مادہ رکھ دیا جاتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے اور شرک کے کبھی قریب بھی نہ جائے۔مگرمیرے نزدیک یہ معنے بالکل غلط ہیں۔اگر توحید کے متعلق اللہ تعالیٰ کو اپنے انبیاء کی طرف مخصوص وحی نازل کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ