تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 559 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 559

ماننے والوں کے متعلق ہے اور وہ یہ کہ اگر وہ عملاً دین کو چھوڑ دیتے ہیں تو خدا تعالیٰ ان کو زیادہ سزا دیتا اور ان کے دشمن کا خیال چھوڑ دیتا ہے اور ظاہری ماننے والوں سے فرماتا ہے کہ وہ قومیں اس زمانہ کی سکیم کے مطابق چلنے کی دعوے دار نہیں۔اس سکیم کے مطابق چلنے کے دعوے دار تم ہو۔تم اس سکیم کے پر زے ہو، وہ تو اس کے پرزے نہیں۔یہ قانون تمہارے لئے ہے ان کے لئے نہیں۔جو قومیں اس سکیم کی مخاطب ہی نہیں یا جو ابھی تک مخاطب نہیں ہوئیںوہ اگر اس کے خلاف چلتی ہیں تو انہیں کوئی سزا نہیں۔تو چونکہ ان کی سزا کی سکیم زمانہ نبوی میں پوری ہو چکی اب ان کو ان کی بدعملیوں کی وجہ سے سزا دینے کی اتنی ضرورت نہیں جتنی کہ تم کو تمہاری بد عملیوں کی سزا دینے کے ضرورت ہے۔اس زمانہ میں مسلمان اگرترقی کر سکتے ہیں تو اسلام کے احکام پر چل کر ہی کر سکتے ہیں۔مسلمان اپنے مذہب کو چھوڑ کر ترقی نہیںکر سکتے۔مسلمان تو اس زمانہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے جاری شدہ سکیم کے پر زے ہیں اگر وہی اس سکیم کو چھوڑ دیں تو یہ نظام کیسے چل سکتا ہے۔اگر مسلمان مذہب پر چلے بغیر ترقی پا سکتا ہے تو خدا تعالیٰ کو اس سکیم کے جاری کرنے کی ضرورت ہی کیا تھی؟ حقیقت یہ ہے کہ اس زمانہ میں مسلمان اسلام کے بغیر ترقی نہیں کر سکتے۔لیکن جب احمدیت پورے طور پر قائم ہو جائے گی اس وقت دوسرے مسلمان اس سکیم کے پر زے نہیں رہیں گے اور وہ اس کے بغیر بھی ترقی کر سکیں گے۔مگر جب تک احمدیت دنیا میں قائم نہیں ہو جاتی اس وقت تک دوسرے مسلمان بھی اس سکیم کے ایسے ہی پر زے ہیں جس طرح احمدی اس سکیم کے پرزے ہیں اور وہ اس کے بغیر کامیاب نہیں ہوسکتے۔دوسری قومیں اسلام کے بغیر ترقی کر سکتی ہیں کیونکہ وہ اس سکیم کے پر زے نہیں وہ تو پہلے سے خدا تعالیٰ کو چھوڑ چکی ہیں ان کے مزید بگڑ جانے سےموجودہ زمانہ کے مذہب یعنی اسلام کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔لیکن اگرمسلمانوںکو بھی اسلام چھوڑنے پر دنیا کی ترقی اور غلبہ مل جائے تو وہ بھی اسلام کو چھوڑ دیں گے۔اس صورت میں خدا تعالیٰ کی ہدایت کاکوئی حامل نہ رہےگا اور محمدی سکیم ناکام ہو جائے گی۔پس اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو اسلام کے بغیر ترقی نہ دے گا تا ان کو مجبوراً اسلام کی طرف لوٹنا پڑے۔اور دنیا کے دکھ آخر انہیں خدا تعالیٰ کی طرف متوجہ کریں اور اسلام کے ذریعہ سے جو خدا کی سکیم جاری ہوئی ہے وہ دنیا میں زندہ اور قائم رہے۔اگر عیسائی اپنے مذہب پر عمل نہیںکرتا تو وہ باوجود بگڑنے کے بےشک ترقی کرتا چلا جائے گا اگر ہندو اپنے مذہب پر عمل نہیں کرتا تو وہ باوجود بگڑنے کے بےشک ترقی کرتا چلا جائے گا کیونکہ وہ مذاہب تو اپنی ذات میں بھی بگڑ چکے ہیں۔ان کے بگڑنے سے خدا تعالیٰ کی سکیم کی موٹر خراب نہیں ہو تی لیکن اگر مسلمانوں کو خدا تعالیٰ با وجود بگڑنے کے ترقی کرنے دے تو پھر اس کی موٹر رک جائے گی کیونکہ مسلمان اس کی موٹر کے پرزے ہیں۔اگر ان کو غافل ہو نے دیا جائے تو موٹر بھی خراب ہو جائے گی۔پس اللہ تعالیٰ