تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 558
بادشاہت اور حکومت کیوں دی۔یہ تو ان کےباپ دادوں کی ان قربانیوں کا نتیجہ ہے جن کو خدا تعالیٰ نے بھلایا نہیں۔میں جب اس جگہ کو دیکھنے کے لئے گیا تو ابھی دو درجے ہی نیچے گیا تھا کہ مجھ میں آگے جانے کی طاقت نہ رہی پھر بھی میری آگے جانے کی نیت تھی مگر میرے بعض ساتھیوں نے زور سے کہا کہ اگر آپ اور آگے گئے تو ہم بیمار ہو جائیں گے اس لئے ہم واپس آگئے۔دو درجے ہی جانے میں ہمارے دل بیٹھ گئے اور ہمارے جسموں میں کوئی طاقت نہ رہی ستّر میل لمبے غارتھےاور عیسائی وہیں رات دن رہتے تھے وہیں بچے پیدا ہورہے تھے وہیں ان کے گرجے تھے جگہ بہ جگہ یہ کتبے لگے ہوئے ہیں کہ میرے بیوی بچے بہن بھائی یہاں بیٹھے ہوئے تھے کہ روما کی پولیس کسی مخبر سے خبر معلوم کر کے یہاں آئی اور اس نے ان سب کو مار دیا۔میں کسی طرح بچ گیا اب میں یہاں کتبہ لگاتا ہوں تا دیکھنے والے ان کے لئے دعا کریں۔کسی کتبہ پر یوں لکھا ہے، یہاں ہمارے پادری صاحب وعظ کر رہے تھے کہ انہیں روما کی پولیس نے شہید کر دیا ان کی یادگار کے طور پر میں یہ کتبہ لگاتا ہوں۔کیا ہی عجیب قسم کا استقلال ہے، کیا ہی عجیب قسم کی قربانی ہے اس کے بدلہ میں اگر اس قوم کو ایک لمبا عرصہ حکومت مل گئی تو اس کا خدا تعالیٰ پر کوئی الزام نہیں آسکتا۔پس ہر زمانہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک سکیم جاری کی جاتی رہی ہے اور جو بھی اس کےمقابلہ میں اٹھتا رہا ہے ناکام ہوتا رہا ہے۔حضرت کرشن علیہ السلام، حضرت رام چند علیہ السلام کے زمانہ میں بھی ایک سکیم جاری ہوئی۔حضرت زردشت علیہ السلام کے زمانہ میں بھی ایک سکیم جاری ہوئی اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بھی ایک سکیم جاری ہوئی۔کُلَّ یَوْمٍ ھُوَ فِیْ شَاْنٍ۔اللہ تعالیٰ ہر زمانہ میں ایک نئی سکیم جاری کرتا ہے اور جو اس پر نہیں چلتا وہ گناہ میں ترقی کرے گا نیکی میں ترقی نہیں کرے گا۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سب سے پہلےمخالف عرب تھے۔ان میں سے جنہوں نے آپ کو مان لیا وہ کامیاب ہو گئے اور ترقی کر گئے حضرت ابو بکر ؓ اورابو جہل میں آخر کیا فرق تھا بلکہ ابو جہل اپنی قوم میں حضرت ابو بکر ؓ سے زیادہ عقل مند سمجھا جاتا تھا لیکن حضرت ابو بکر ؓ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لا کر کہاں سے کہاں پہنچ گئے اور ابو جہل آپ کا انکارکر کے کہاں سے کہاں جا گرا۔کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ فلا ں قوم ایسا کرتی ہے وہ کیوں بچ گئی۔فلاں قوم بد کاریاں بھی کرتی ہے اور دوسرے کام بھی کرتی ہے اگر وہ کامیاب ہو گئی ہے تو ہم اسلام کے احکام یعنی نمازوں، روزوں اور پردہ وغیرہ کے احکام پر عمل کرنے کے بغیر کیوں کامیاب نہیں ہو سکتے ؟اس کا جواب یہ ہے کہ پہلے لوگوں کے مطابق اس سکیم کا پہلا حصہ تھا بعد کے زمانہ میںیعنی جب ایک دفعہ نبی کی قوم غالب آگئی تو اب سکیم کا دوسرا حصہ چلتا ہے جونبی کے