تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 560
فرماتا ہے مجھے بتا تو سہی اس شخص کا حال جو شان الٰہی کا انکار کرتا ہے اس سلسلہ کا انکار کرتا ہے جس کو خدا تعالیٰ نے اس زمانہ میں جار ی کیا ( یہاں سلسلہ سے مرادسلسلہ محمدی ہے کیونکہ جو سلسلہ خدا تعالیٰ نے اس زمانہ میں جاری کیا ہے وہ سلسلہ محمدی ہی ہے ) اگر کوئی شخص ایسا ہے جو سلسلہ محمدیہ کا انکار کرتا ہے تو وہ کبھی کامیاب نہیں ہوسکتا اس زمانہ میں اگر ترقی اورکامیابی حاصل ہو گی تو سلسلہ محمدیہ پر چل کر ہی ہو گی اور اس سلسلہ کا پر زہ بننے کی صورت میں ہی ملے گی (جیسا کہ میں بتا چکا ہوں اس سے مراد اسلام کے غلبہ سے پہلے کا زمانہ ہے اس کے بعد سکیم کا دوسرا حصہ چلتا ہے ) فَذٰلِكَ الَّذِيْ يَدُعُّ الْيَتِيْمَۙ۰۰۳ وہی شخص تو یتیم کو دھتکارا کرتا ہے۔حلّ لُغات۔یَدُعُّ دَعَّ سے مضارع کا صیغہ ہے اور دَعَّہُ دَعًّا کے معنے ہیں دَفَعَہُ دَفْعًا عَنِیْفًا۔اس کو سختی سے ہٹایا۔وَفِی الْاَسَاسِ ’’ دَعَّ الْیَتِیْمَ‘‘ دَفَعَہُ بِـجَفْوَۃٍ۔’’اساس‘‘ لغت کی کتاب میں دَعَّ الْیَتِیْمَ کے معنے یہ لکھے ہیں کہ یتیم کو دھتکارا اور اس سے برا سلوک کیا۔(اقرب) تفسیر۔اس آیت میں بتایا گیاہے کہ جو دین کی تکذیب کرتا ہے وہی یتیم کو دھتکارنے والا ہے فَاء جو ذَالِکَ سے پہلے آئی ہے بتاتی ہے کہ اس سے پہلے کوئی جملہ محذوف ہے کیونکہ ظاہر جملہ یعنی اَرَءَیْتَ الَّذِیْ یُکَذِّبُ بِالدِّیْنِ ’’فَاء ‘‘کی وجہ نہیں بن سکتا۔یہ میں پہلے بتا چکا ہوں کہ مفسرین کے نزدیک اس جملہ کی مختلف تشریحات ہیں۔صاحب کشاف یعنی علامہ زمخشری جو تفسیر کے لحاظ سے تو اعلیٰ پایہ کے نہیں سمجھے جاتے مگر نحو اور لغت کے امام مانے جاتے ہیں ان کے نزدیک یہاں فَاء سے پہلے اِنْ لَمْ تَعْلَمْ کا جملہ محذوف ہے یعنی اے مخاطب اگر تو نہیں جانتا کہ وہ کون شخص ہے جو دین کی تکذیب کرتا ہے تو میں تمہیں بتاتا ہوں کہ اس میں یہ یہ علامات پائی جاتی ہیں۔اَرَءَیْتَ الَّذِیْ کے متعلق مفسرین کا ایک اعتراض اور اس کا جواب بعض مفسرین نے اس آیت پر یہ اعتراض وارد کیا ہے اور وہ یہ کہ اِنْ لَمْ تَعْلَمْ کا جملہ شک پر دلالت کرتا ہے لیکن خدا تعالیٰ جو علیم و خبیر ہے اسے شک نہیں ہو سکتا کہ مخاطب اس امر کو جانتا ہے یا نہیں۔اس اعتراض کے مختلف لوگوں نے مختلف جواب دیئے ہیں مگر میرے نزدیک اس جگہ اس جملہ کے استعمال کی وجہ یہ ہے کہ اس جگہ مخاطب ایک مخصوص شخص نہیں بلکہ فرداً فرداً تمام بنی نوع انسان یا قرآن کریم کے پڑھنے والوں کو مخاطب کیا گیا ہے اور یہ ظاہر ہے کہ جب مخاطب متعدد