تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 557
اٹکائیں خدا تعالیٰ کی سکیم پوری اور کامیا ب ہو کر رہتی ہے۔ایک سکیم حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میںجاری کی گئی تھی حضرت موسیٰ علیہ السلام کے دشمن کتنے طاقت ور تھے فرعون جیسا طاقت ور بادشاہ آپ کے مقابلہ میں تھا لیکن خدا تعالیٰ کی سکیم کے مقابلہ میںنہ تو فرعون کامیاب ہوسکا اور نہ اسے چھوڑ کر آپ کی امت ہی جیت سکی۔جب آپ کی قوم نے کہہ دیا اِذْهَبْ اَنْتَ وَ رَبُّكَ فَقَاتِلَاۤ اِنَّا هٰهُنَا قٰعِدُوْنَ(الـمائدۃ:۲۵) اے موسیٰ جا تو اور تیرا خدا دونوں لڑو ہم تو یہاں بیٹھے رہیں گے۔ہم تمہاری بات کو نہیں مانتے اپنی کامیابی اور بہتری کا سامان ہم خود پیدا کر لیں گے۔تو خدا تعالیٰ فرماتا ہے ہم نے موسیٰ علیہ السلام کی قوم کے متعلق فیصلہ کیا کہ وہ جنگلوں میں چالیس سال تک بھٹکتی رہے کہاںاس کی وہ حالت تھی کہ مصر سے نکلنے کے بعد وہ کامیابی پر کامیابی حاصل کرتی رہی۔لیکن جب اس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے حکم کی خلاف ورزی کی تو اسے جنگلوں میں بھٹکنا پڑااور کوئی صورت بھی اس کی کامیابی کی نہ رہی یہاں تک کہ اس نے حضرت یو شع علیہ السلام کے ہاتھ پر توبہ کی۔یہی حال حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا تھا آپ کے زمانہ میں بھی ایک سکیم جاری ہوئی۔مخالفوں نے اپنا زور لگایا مگر وہ کامیاب نہ ہوئے خدا تعالیٰ کی ہی سکیم کامیاب ہوئی اور یہودیوں کی بادشاہت اس وقت تک نہ آئی جب تک کہ وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بتائے ہوئے راستہ پر چل نہ پڑے ( سوائے موجودہ زمانہ کی عارضی کامیابی کے جس کا ذکر خود قرآن کریم میں موجود ہے دیکھو تفسیر سورۂ بنی اسرائیل) جتنی لمبی تکلیف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قوم نے اٹھائی ہے اس کا تم اندازہ بھی نہیں کر سکتے۔تین سو سال تک اس نے ذلت کی زندگی گذاری۔بعض دفعہ سات سات سال تک وہ سطح زمین سے اسّی فٹ نیچے گیلی زمین میں غاروں میں چھپی رہی۔میں نے ان جگہوں کو اٹلی میں خود دیکھا ہے (ان کو کیٹا کومبز کہتے ہیں ) ایسی خطرناک جگہیں ہیں کہ وہ تمہارے واہمہ میں بھی نہیں آ سکتیں۔اگر وہ تکالیف ہماری جماعت کو اٹھانی پڑیں تو مجھے خوف ہے کہ بہت سے احمدی احمدیت چھوڑ دیں۔لیکن عیسائیوں میں سے ایک مخلص طبقہ ( ان میں سے کمزور ڈر سے مسیحیت چھوڑ دیتے تھے) وہاںسات سات سال تک متواتر رہا ہے تا ان گڑھوں اور غاروں میں چھپ کر کسی طرح ان کا ایمان بچ جائے۔غاروں کے اندر ہی ان کے گرجے تھے چوری چوری وہ باہر نکلتے تھے اور اپنے ہمدردوں کے ذریعہ شہر سے غلّہ منگواتے تھے۔غاروں میں بالکل اندھیرا تھا وہ شمعیں جلا جلا کر گذارہ کرتے اور دن رات وہیں گذار دیتے تھے۔اس جگہ کے دیکھنے کے بعد کوئی شخص اللہ تعالیٰ پر یہ الزام نہیں لگا سکتا کہ عیسائیوں کو اس نے ایک لمبے عرصہ تک