تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 551
دل گھبرا نہ جائیں خدا تعالیٰ تو مومن کے دل کا اتنا لحاظ کرتا ہے کہ فرماتا ہے مومنوں کو دوزخ کا عذاب دور سے دیکھنے کی تکلیف سے بھی بچایا جائے گا مگر آج کل کا مسلمان کہتا ہے کہ ہر انسان دوزخ میں ڈالا جائے گا۔پھر فرمایا وَ عَلَى الْاَعْرَافِ رِجَالٌ يَّعْرِفُوْنَ كُلًّۢا بِسِيْمٰىهُمْ١ۚ وَ نَادَوْا اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ اَنْ سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ١۫ لَمْ يَدْخُلُوْهَا وَ هُمْ يَطْمَعُوْنَ یعنی اعراف والے لوگ سب کوان کی شکلوں سے پہچان لیں گے اور جنت والوں کو پکار کرکہیں گے کہ تم پر اللہ کی سلامتی ہو، وہ ابھی جنت میں داخل نہیں ہوئے ہوں گے بلکہ جنت میں داخل ہو نے کی امید کرر ہے ہوں گے۔ان آیات سے ظاہر ہے کہ یہ گروہ بھی دوزخ سے باہر ہو گا اور اعراف والے ان سے یہ کہیں گے کہ تم پر اللہ تعالیٰ کی سلامتی ہو۔سابق مفسرین نے اس آیت کے معنے کرنے میں غلطی کھائی ہے اور کہا ہے کہ اعراف والےلوگ وہ ہیں جن کی جنت کا فیصلہ نہیں ہوا ہو گا(تفسیر الخازن سورۃ الاعراف زیر آیت الَّذِيْنَ يَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَ يَبْغُوْنَهَا عِوَجًا۔۔۔۔)۔حالانکہ اعراف والے لوگوں کی نسبت تویہ بتایا گیا ہے کہ وہ جنت و دوزخ کے لوگوں سے مخاطب ہوکر سوال و جواب کریں گے اور یہ مقام اعلیٰ لوگوں کا ہو تا ہے پس اعراف والے ادنیٰ درجہ کے مومن نہیں بلکہ انبیاء و صلحاء کامل کا گروہ ہے یہ گروہ مومنوں کو مخاطب کر کے کہے گا کہ گھبراؤ نہیں تم پر اللہ کی سلامتی ہے۔اس لئے کہ یہ عام مومن ابھی جنت میں داخل نہیں ہوئے ہو ں گے بلکہ جنت میں داخل ہو نے کی امید کر رہے ہو ں گے اور خوف سے گھبرائے ہوئے ہو ں گے۔اعراف والے ان کو تسلی دیں گے کہ تم پر سلامتی ہی سلامتی ہے گھبراؤ نہیں۔پھر اسی اعلیٰ گروہ کی توجہ اہل دوزخ کی طرف پھیری جائے گی تو وہ کہیں گے۔اے ہمارے رب تو ہمیں ظالموں کے ساتھ مت کیجیو۔یہاں پر ایک عجیب لطیفہ ہے۔مفسرین کہتے ہیں کہ اصحاب الاعراف سے مراد یہاںادنیٰ درجہ کے لوگ ہیں۔اگر یہ معنے بھی مان لئے جائیں تو خدا تعالیٰ کہتا ہے کہ وہ ادنیٰ درجہ کے لوگ بھی جنت میں جائیں گے۔چنانچہ وہ کہیں گے کہ اے ہمارے رب تو ہمیں ظالموں کے ساتھ مت کیجیو۔یہ عجیب بات ہے کہ مفسرین کے نزدیک تو معمولی درجہ کے مومن جنت میں نہیںجائیں گے لیکن خدا تعالیٰ کہتا ہے کہ ادنیٰ درجہ کے مومن بھی جنت میں جائیں گے اور دوزخ کی آگ سے بچائے جائیں گے۔پھر فرمایا اصحاب اعراف کفار سے کہیں گے کہ تم کو تمہارے جتھوں نے فائدہ نہیں پہنچایا۔تم مومنوں کے بدخواہ تھے لیکن دیکھو آج وہ جنت میں جا رہے ہیں اور پھرمومنوں سے کہیں گے کہ جاؤ اب جنت میں داخل ہو جاؤ۔ان آیات سے دوباتیں ظاہر ہیں۔اوّل مومن دوزخ میں نہیں جائے گا کیونکہ یہاں کہا گیا ہے کہ مومن دوزخ سے دور کھڑے ہوں گے کہ انہیں اصحاب اعراف جنت میں جانے کا حکم دیں گے۔دوسرے یہ کہ اصحاب اعراف کمزور مومنوں کا نام