تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 552 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 552

نہیں کیونکہ فرمایا گیا ہے کہ اعراف والے دوسرے مومنوں کو اجازت دیں گے کہ جاؤ جنت میںداخل ہوجاؤ۔کوئی عقل مند نہیں کہہ سکتا کہ ادنیٰ درجہ کے لوگ اعلیٰ درجہ والوں کو جنت میں داخل ہو نے کی اجازت دیں گے۔اوپر کی آیات سے بھی صاف ثابت ہو تا ہے کہ تقدیر الٰہی یہی ہےکہ ہر ایک انسان کو جنت میں داخل کیاجائے۔لیکن اگر کوئی دوزخی ہے تو وہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی راستہ سے بھولا بھٹکا مسافر۔لیکن کسی نہ کسی دن وہ بھی ضرور جنت میں داخل ہو جائے گا۔اگر ان دوزخیو ں کو قضائے الٰہی پر یقین ہوتا اور وہ سمجھتے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس لئے پیدا کیا ہے کہ ہم اس کے مخلص اور مومن بندے بن جائیں تو وہ ضرور نیکی کے لئے جد و جہد کرتے اور اپنے نفسو ں کی اصلاح کرتے پس جب انسان قضائے الٰہی پر یقین نہیں رکھتا تو وہ ٹھوکر کھا جاتا ہے اور مختلف قسم کی بدیوں میںمبتلا ہو جاتا ہے۔مثلاً عیسائیوں کا قضاء الٰہی پر ایمان ایسا ہی ہے۔ان کا عقیدہ ہے کہ انسان گناہ گار پیدا ہو تا ہے اور جب تک وہ کفارہ پر ایمان نہ لائے وہ پاک نہیں ہو سکتا۔اسی طرح ہندو ہیں ان کا بھی قضاء الٰہی پر یقین نہیں۔ہندو تناسخ کے قائل ہیں۔ان کا یہ عقیدہ ہے کہ انسان دوزخ کے لئے پیدا ہوا ہے جنت کے لئے پیدا نہیں ہوا۔اللہ تعالیٰ نیکی کا انعام دیتا ہے مگر کوئی نہ کوئی گناہ ایسا رکھ لیتا ہے جس کی وجہ سے خدا تعالیٰ اسے پھر دنیا میں بھیج دیتا ہے کوئی قسمت والا ہی نیکیاں کر کے جنت میںجاتا ہے۔مگر خدا تعالیٰ اسےاس کے کسی قصور کے بدلہ میںجو چھپا کر رکھ لیا جاتا ہے پھر دنیا میں بھیج دیتا ہے اس طرح ایک چکر سا بندھ جاتا ہے(ستیارتھ پرکاش سملاس نواں سوال۲۰ صفحہ ۳۱۶، ۳۱۷) انسان نیک اعمال کرتا ہے اور جنت میں جاتا ہے۔خدا تعالیٰ اس کا کوئی نہ کوئی قصور باقی رکھ لیتا ہےاور آخر اس قصور کے بدلہ میں وہ پھر اسے دنیا میں بھیج دیتا ہے۔یہ بالکل وہی بات ہے جو ہندو مسلمانوں سے کرتے ہیں جب تھوڑا سا قرضہ باقی رہ جاتا ہے تو کہہ دیتے ہیں چودھری جی آپ کا قرضہ صاف ہو گیا ہے اس سے وہ مطمئن ہو جاتا ہے لیکن وہ تھوڑا ساقرضہ جو باقی رہ گیا تھا بڑھتا چلا جاتا ہے مثلاً دس روپے اگر قرضہ تھا تو اس پر ڈیوڑھا سود لگ کر سال میں قرضہ پندرہ روپے ہو جائے گا پھر پندرہ سے بائیس ہو جائے گا اسی طرح وہ بڑھتا جائے گا اور کچھ عرصہ کے بعد جب وہ چودھری ان سے ملے گا یا وہ خود ہی اس کے گھر جائیں گے تو اس سے کہیں گےچودھری جی آپ کا کچھ قرضہ باقی ہے ہم نے اس وقت غلطی سے کہہ دیا تھا کہ قرضہ صاف ہو گیا ہے در اصل غلطی لگ گئی تھی تھوڑا سا قرضہ باقی رہ گیا تھا جو اب سود پڑتے پڑتے اتنا ہو گیا ہے اور اس طرح پھر ایک چکر شروع ہو جاتا ہے ان کے نزدیک اللہ تعالیٰ بھی انسا ن کے ساتھ ایسا ہی سلوک کرتا ہے جیسا وہ مسلمانوں کے ساتھ کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ بھی ان کے نزدیک سلیٹ صاف نہیں کرتا کوئی نہ کوئی گناہ رکھ لیتا ہے جو بڑھتے بڑھتے اس حد تک پہنچ جاتا ہے کہ خدا تعالیٰ انہیں واپس دنیا میں بھیج