تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 550 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 550

يَنَالُهُمُ اللّٰهُ بِرَحْمَةٍ١ؕ اُدْخُلُوا الْجَنَّةَ لَا خَوْفٌ عَلَيْكُمْ وَ لَاۤ اَنْتُمْ تَحْزَنُوْنَ۔(الاعراف: ۴۳تا۵۰) ان آیات میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وہ لوگ جو ایمان لائے اور پھر انہوں نے مناسب حال اعمال کئے ان پر ہم وہ بوجھ نہیں ڈالیں گے جن کے اٹھانے کی ان میں طاقت نہ ہو۔وہ لوگ جنت والے ہیں اور جنت میں ہمیشہ رہیں گے۔دیکھو یہ کیسا لطیف مضمون ہے اس خوف سے کہ کوئی یہ نہ سمجھ لے کہ جنت حاصل کرنے کے لئے ضروری ہے کہ پیدائش کے وقت سے لے کر آخر وقت تک یعنی موت تک اس نے کوئی ٹھوکر نہ کھائی ہو اور اس نے کوئی غلطی نہ کی ہو۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جو شخص بھی زور لگاکر اپنی اصلاح کر تا ہے اور نیک کام کرتا ہے خواہ وہ اپنے مقصد کو حاصل کرنے سے پہلے ہی فوت ہو جائے۔ہم اس کے گناہ معاف کر دیں گے اور وہ سیدھا جنت میں جائے گا۔پھر فرمایا وَنَزَعْنَا مَا فِيْ صُدُوْرِهِمْ مِّنْ غِلٍّ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهِمُ الْاَنْهٰرُ١ۚ وَ قَالُوا الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ هَدٰىنَا لِهٰذَا١۫ وَ مَا كُنَّا لِنَهْتَدِيَ لَوْ لَاۤ اَنْ هَدٰىنَا اللّٰهُ١ۚ لَقَدْ جَآءَتْ رُسُلُ رَبِّنَا بِالْحَقِّ١ؕ وَ نُوْدُوْۤا اَنْ تِلْكُمُ الْجَنَّةُ اُوْرِثْتُمُوْهَا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۔کہ ہم ہر قسم کا کینہ ان کے دلوں سے نکال دیں گے ان کے نیچے نہریںبہتی ہو ں گی وہ اللہ تعالیٰ کی تعریف کریں گے جس نے انہیں جنت کا رستہ دکھایا اگر اللہ تعالیٰ انہیں جنت کا رستہ نہ دکھاتا تو وہ ہدایت نہیں پا سکتے تھے اور یہ قضاء الٰہی تھی جو اس طرح ظاہر ہوئی کہ ان کے پاس اللہ تعالیٰ کے رسول آئے۔اگر وہ رسول ان کے پاس نہ آتے تو وہ اس ہدایت کو نہیں پا سکتے تھے اور انہیں پکار پکار کر کہہ دیا جائے گا کہ چونکہ تم نے دنیا میں نیک اعمال کئے ہیں اس لئے تم جنت کے وارث قرار دیئے گئے ہو۔پھر فرمایا وَ نَادٰۤى اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ اَصْحٰبَ النَّارِ اَنْ قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَهَلْ وَجَدْتُّمْ مَّا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا١ؕ قَالُوْا نَعَمْ١ۚ فَاَذَّنَ مُؤَذِّنٌۢ بَيْنَهُمْ اَنْ لَّعْنَةُ اللّٰهِ عَلَى الظّٰلِمِيْنَ۔جنت والے دوزخ والو ں سے کہیں گے کہ جو وعدہ اللہ تعالیٰ نے ہم سے کیا تھا وہ تو پورا ہو گیا۔کیا تم سے جو اس نے وعدہ کیا تھا وہ پورا ہو گیا ہے ؟ وہ کہیں گے ہاں وہ وعدہ بھی پورا ہو گیاہے اور پکارنے والا پکارے گا کہ ظالموں پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہے۔اب دیکھو اگر یہ لوگ دوزخ میں سے ہو کر جنت میں جاتے تو انہیں آواز دے کر پوچھنے کی کیا ضرورت تھی۔جب وہ اکٹھے دوزخ میں آئے تو یہ پوچھنے کے کیا معنے ہو سکتے ہیں کہ تم سے جو وعدہ خدا تعالیٰ نے کیا تھا آیا وہ پورا ہو گیاہے یا نہیں۔وہ تو انہیں دوزخ میں اپنی آنکھوں سے دیکھ آئے تھے۔جنت والوں کا آواز دینا صاف بتاتا ہے کہ وہ دوزخ میں نہیں گئے۔کیا ان کی آنکھیں اندھی ہوں گی یا آنکھوں پر پٹی باندھ کر انہیں دوزخ میں سے گذارا جائے گا کہ انہیں ایک دوسرے کو آواز دے کر پو چھنے کی ضرورت ہو گی۔پھر فرمایا وَبَيْنَهُمَا حِجَابٌ کہ مومنوں اورکافروں کے درمیان پردہ ڈال دیا جائے گا تا دوزخیوں کو دیکھ کر مومنوں کے