تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 536
سے پیدا ہو تا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک دفعہ ایک ریشمی جبّہ آیا۔آپ نے حضرت عمر ؓ کو بلوا کر وہ جبّہ انہیں تحفۃً دے دیا۔نماز کا وقت آیا تو حضرت عمر ؓ وہی ریشمی جبّہ پہنے آگئے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا تو آپ کے چہرہ پر خفگی کے آثار ظاہر ہوئے اور آپ نے فرمایا۔عمر تم نے یہ کیا کافروں والا لباس پہن رکھا ہے۔حضرت عمر ؓ نے کہا یا رسول اللہ آپ نے ہی تو یہ جبّہ مجھے دیا تھا اور اب آپ ہی میرے پہننے پر اظہار ناراضگی فرما رہے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔یہ تمہارے استعمال کے لئے تو نہیں تھا۔تمہاری بیوی بچے بھی تھے تم اپنی بیوی یا اپنی بیٹی کو دے سکتے تھے تمہیں یہ کس نے کہا تھا کہ تم خود اسے پہن لو(مسلم کتاب اللباس والزینۃ باب تـحریم لبس الحریر۔۔۔)۔اب دیکھو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ریشمی جبّہ دیا آپ اس کے دینے سے انکار نہیں کرتے مگر فرماتے ہیں یہ اور کام کے لئے تھا تم اپنی بیوی کو پاجامہ یا کرتا بنوا دیتے یا بیٹی کے لئے کوئی کپڑا سلوا لیتے، خود کیوں پہنا۔تو اللہ تعالیٰ نے دنیا میں کوئی چیز بھی ایسی پیدا نہیں کی جو انسانی فائدہ کے لئے نہ ہو۔ہاں ہر چیز کے الگ الگ کام ہیں مثلاً سونا خدا تعالیٰ نے ہی پیدا کیا ہے مگر دوسری طرف یہ بھی بتایا گیا ہے کہ جو لوگ دنیا میں سونا جمع کریں گے انہیں قیامت کے دن وہی سونا گلا گلا کر جسم پر داغ دیئے جائیں گے۔اب بظاہر یہ بات عجیب معلوم دیتی ہے کہ خود ہی سونا پیدا کیا ہے اور خود ہی اس کے استعمال پر سزائیں تجویز کر دی ہیں اس کا جواب یہی ہے کہ سونا خدا تعالیٰ نے جمع کرنے کے لئے پیدا نہیں کیا بلکہ اسے تجارت اور اقتصادی امور میں لینے دینے کے لئے پیدا کیا ہے۔اسی طرح اپریشن میں ہڈیوں کے جوڑ نے اور دانتوں کے جو ڑنے کے لئے پیدا کیا گیا ہے کیونکہ سونا ایسی دھات ہے جسے سب سے کم زنگ لگتا ہے۔اس لئے پیدا نہیں کیا گیا کہ اس سے زیور بنوا بنوا کر رکھ لئے جائیں۔سوائے اس کے کہ تھوڑے سے زیور عورت زینت کے طور پر استعمال کرے۔غرض ہر چیز کسی فائدہ کے لئے پیدا کی گئی ہے۔انہی میں سے عادت بھی ایک ایسی چیز ہے جس کا انسانی ترقی کے ساتھ نہایت گہرا تعلق ہے۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ عادت بری چیز ہے۔اچھی عادت بھی بری ہے اور بری عادت بھی بری ہے۔وہ کہتے ہیں جب کسی نیک کام کی بھی عادت ہو جائے تو انسان کو کیا ثواب مل سکتا ہے۔مگر یہ درست نہیں۔دنیا میں عادت اللہ تعالیٰ کی عظیم الشان نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے۔عادتوں کے ذریعہ نیکی کا سفر بہت آسان ہو جاتا ہے اگر عادت نہ ہوتی تو یہ سفر اتنا آسان نہ ہوتا۔عادت ہی ایک ایسی چیز ہے جو ہر اگلے عمل کو انسان کے لئے آسان کر دیتی ہے۔عربی میں مثل ہے کہ اَلْعَوْدُ اَحْـمَدُ یعنی جب تم کوئی کام کرو تو پھر اسے دہراؤ اور یاد رکھو کہ جتنی دفعہ تم کوئی کام دہراؤ گے اتنا ہی وہ اچھا ہو جائے گا۔ہم سوئی داگا لے کر بیٹھ جائیں اور کپڑا سینے لگیں تو شاید ایک معمولی کپڑا سینے میں