تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 535 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 535

مردہ نہیں ہو تی وہ مسخ ہو سکتی ہے، وہ گناہوں سے دب سکتی ہے مگر مر نہیں سکتی۔بہر حال ضمیر انسان کو ہلاتی رہتی اور اسے بیدار کرتی رہتی ہے جو شخص اس ضمیر کی آواز کو سن لیتا ہے۔وہ نیکی کی طرف قدم اٹھانے لگ جاتا ہے اور جو اسے مردہ نہیں کرتا نیکیوں کا راستہ اس کے لئے کھلا رہتا ہے لیکن جو شخص ضمیر کو کچل دیتا یا مار ڈالتا ہے وہ بدیوں میں مبتلا ہو جاتا ہے۔پس فرماتا ہے اَرَءَیْتَ الَّذِیْ یُکَذِّبُ بِالدِّیْنِ۔مجھے خبر تو دو اس شخص کے متعلق جو ضمیر کی آواز کا منکر ہے اور کہتا ہے کہ یہ محض ڈھکوسلہ ہے تم دیکھو گے کہ ایساانسان قسم قسم کی خرابیوں میں مبتلا ہو جائے گا اور نیکیوں سے محروم ہوجائے گا کیونکہ وہ ذریعہ جو نیکیوں کی طرف لے جانے والا تھا۔اس کا اس نے استیصال کر دیا۔الدّیْن کے نویں معنے عادت کے (۹) اَلدِّیْن کے ایک معنے عادت کے ہیں۔عادت بھی انسا ن کو بدیوں سے بچانے میں بڑی ممد ہو تی ہے۔سیاق و سباق کو مدّ ِنظر رکھنے سے معلوم ہو تا ہے کہ یہاں عادت سے مراد نیکی کی عادت ہے عام عادت اس سے مراد نہیں ہو سکتی یعنی یہ مطلب نہیں ہو سکتا کہ جسے گوشت کھانے کی عادت ہو گی وہ یتیموں پر ظلم نہیں کرے گا یا جسے انگریزی لباس پہننے کی عادت ہو گی وہ بدیوں سے محفوظ رہے گا۔یہ بالکل بے معنی بات بن جاتی ہے۔سیاق و سباق خود بتا رہا ہے کہ اس جگہ عادت سے مراد نیکی کی عادت ہے اور اللہ تعالیٰ اس مضمون کو بیان کر رہا ہے کہ جو شخص اس اصل کو تسلیم کرتا ہے کہ عادت کا بھی انسانی ترقی میں بہت بڑادخل ہے اور عادت بھی نیکیوں میں ترقی کرنے اور بدیوں کے دبانے میں بہت بڑا حصہ رکھتی ہے وہ ترقی کر جاتا ہے۔اور جو شخص عادت کی قوت کو نہیں مانتا وہ بدیوں میں مبتلا ہو جاتا اور نیکیوں سے محروم ہو جاتا ہے۔یہ عجیب بات ہے کہ دنیا میں قرآن کریم ہی ایک ایسی کتاب ہے جس نے اس فلسفہ کو پیش کیا ہے کہ انسان کی فطرت کے اندر جس قدر باتیں پائی جاتی ہیں وہ ساری کی ساری انسان کے فائدہ اور نفع اور ترقی کے لئے رکھی گئی ہیں۔یہ نکتہ دنیا میں صرف قرآن کریم نے ہی پیش کیا ہے۔وہ کسی انسانی جذبہ کے متعلق یہ نہیں مانتاکہ وہ بے کار اور لغو ہے بلکہ وہ اصرار کرتا ہے کہ ہر جذبہ جو انسانی فطرت میں پایا جاتا ہے وہ اپنے اندر حکمت رکھتا ہے اور انسان کے فائدہ کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔سارا قرآن اس مضمون سے بھرا پڑا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کوئی چیز لغو پیدا نہیں کی بلکہ جو کچھ پیدا کیا ہے تمہارے فائدہ کے لئے پیدا کیا ہے۔حتی کہ وہ بعض دفعہ مثالوں سےبتاتا ہے کہ موت جس سے تم ڈرتے ہو وہ بھی تمہارے فائدہ کے لئے پیدا کی گئی ہے۔ابتلاء جس سے تم خوف کھاتے ہو وہ بھی تمہارے فائدہ کے لئے پیدا کئے گئے ہیں۔غرض اصرار اور تکرار سے وہ اس بات کو پیش کرتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے جو چیز بھی پیدا کی ہے انسانی فائدہ کےلئے پیدا کی ہے مضرّت اور نقصان کے لئے پیدا نہیں کی۔مضرّت اور نقصان اس کے غلط استعمال