تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 537 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 537

ہی ہمیں پانچ دن لگ جائیں اور پھر اس کی سلائی یوں معلوم ہو گی جیسے کوئی چیونٹا چل رہا ہے لیکن درزی اسی کپڑے کو شام تک سی دے گا۔اب ایک درزی کو ہم پر کیا فو قیت ہے یہی فوقیت کہ اس نے کپڑے سینے کی عادت ڈالی ہوئی ہے یہی حال اور کاموں کا ہے۔مثلاً سائیکل کی سواری ہے لوگ تو کہتے ہیں کہ سائیکل چلانا نہیں بھولتا مگر میں تو بھول گیا۔کئی سالوں کے بعد میں ایک دن گھر میں سائیکل چلانے لگا تو گر پڑا ہاں تیرنا نہیں بھولا۔۲۵ سال کے بعد بھی میں تیرا تو تین میل تک مسلسل تیرتا چلا گیا۔بہر حال سائیکل کی سواری لے لو یا تیرنا لے لو اس میں بھی مشّاق نکل جاتے اور دوسرے لوگ رہ جاتے ہیں کیونکہ انہیں تیرنے یا سائیکل چلانے کی عادت ہو تی ہے۔دنیا میں لوگ سفر کرتے وقت پو چھا کرتے ہیں کہ کوئی اچھا موٹر چلانے والا ہے۔کبھی پو چھتے ہیںیہاں کوئی اچھا طبیب ہے ؟ اچھا موٹر چلانے والا کون ہو تا ہے وہی جسے موٹر چلانے کی عادت ہو تی ہے۔اچھا طبیب کون ہو تا ہے وہی جسے علاج کرنے کی دیرینہ عادت ہو تی ہے، اچھا سرجن کون ہو تا ہے وہی جسے اپریشن کرنے کی دیرینہ عادت ہو تی ہے۔اچھے استاد کے کیا معنے ہو تے ہیں یہی کہ جس نے سال ہا سال تک پڑھایا ہو۔اچھے باورچی کے کیا معنے ہو تے ہیںیہی کہ جس نے سالہا سال کھانا پکایا ہو۔بے شک ان کاموں میں عقل بھی دخل رکھتی ہے مگر عادت کا بھی بہت بڑا حصہ ہے۔غرض جو کام بھی دنیا میں نظر آتے ہیں۔جس قدر پیشے اور فنون نظر آتے ہیں ان میں مہارت محض عادت سے پیدا ہو تی ہے عادت کو نکال دو تو کوئی مہارت پیدا نہیں ہو سکتی۔یہ کہنا کہ عادت بری چیز ہے حماقت ہے۔عادت اللہ تعالیٰ کی عظیم الشان نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے۔کہتے ہیں ع کسب کمال کن کہ عزیز جہان شوی اس کے معنے بھی یہی ہیں کہ عادت پیدا کرو۔غرض دنیا کے ہر فن کی ترقی عادت کے ساتھ وابستہ ہے۔ہر عمل جو تم کرتے ہو وہ ویسا ہی دوسرا عمل تمہارے لئے آسان کر دیتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتےہیں کہ جب کوئی انسان نیک عمل کرتا ہے تو فرشتے ایک سفید نقطہ اس کے دل پر لگادیتے ہیں اور جب کوئی برا کام کرتا ہے تو فرشتے اس کے دل پر ایک سیاہ نقطہ لگا دیتے ہیں۔اسی طرح سیاہ اور سفید نقطے لگتے چلے جاتے ہیں یہاں تک کہ ایک دن سفید نقطے سیاہ نقطوں پر غالب آجاتے ہیں اور وہ بدیوں سے محفوظ ہو جاتا ہے یا سیاہ نقطے سفید نقطوں پر غالب آجاتے ہیں اور وہ نیکیوںسے محروم ہو جاتا ہے اور اس کے دل پر مہر لگ جاتی ہے(مسلم کتاب الایمان باب بیان ان الاسلام بدأ غریبًا و سیعود غریبًا)۔اس کا بھی یہی مطلب ہے کہ نیکی کی عادت آہستہ آہستہ اسے ایسے مقام پر پہنچا دیتی ہے کہ بدی اسے ایسی معلوم ہو تی ہے جیسے سمندر کی مچھلی جنگل میں پھینک دی جائے۔یا بدی کرتے کرتے وہ ایسا عادی