تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 526
تو ان سے بھی یہی ذکر کرتے ہیں۔پھر ایک شہر کے لوگ جب دوسرے شہر والوں سے ملتے ہیں تو وہ بھی یہی قومی تذکرہ کرتے ہیں۔نتیجہ یہ ہو تا ہے کہ دماغوں میں ایک اشتراک پیدا ہو جاتا ہے۔اور قوم کے اندر ایک ایسی روح پیدا ہوجاتی ہے کہ سب کی نظر صرف ایک ہی جہت کی طرف اٹھتی ہے۔ہندوؤں میں یہی سپرٹ تھی جس نے انہیں کامیاب کیا۔ادنیٰ سے ادنیٰ ہندو بھی اگر کوئی شکایت کرتا تو بڑے سے بڑا افسر بھی جب درخواست کے نیچے مثلاً دیوی چند کا نام لکھا ہوا دیکھتا تو وہ کہتا کہ جو کچھ دیوی چند کہہ رہا ہے ٹھیک ہے۔اس کے مقابلہ میںاگر ایک مسلمان افسر بھی کوئی شکایت کرتا تو وہ سمجھتے کہ یہ غلط ہے مسلمان جھوٹ بول رہا ہے اور ہندو سچ بول رہا ہے۔دوسری طرف مسلمان افسروں کی یہ حالت تھی کہ اگر ہندو اور مسلمان کا جھگڑا ان کے پاس پہنچتا تو وہ بھی ہندو کی تائید کرتے تاکہ لوگ یہ سمجھیں کہ یہ مسلمان بڑا نصاف پسند ہے حالانکہ وہ جو کچھ کرتا انصاف اور اسلام کے بالکل خلاف ہو تا تھا۔محض اس لئے کہ ہندو اس کی تعریف کریں وہ مسلمان کے خلاف چلتا اور پھر اس کانام انصاف رکھتا۔یہ نتیجہ تھا اس بات کا کہ مسلمانوں کے اندر قومی روح نہیں تھی۔چنانچہ جب گذشتہ مصیبت آئی وہ بری طرح شکست کھا کر بھاگے کیونکہ قومی مصیبت کے وقت فردی دماغ کام نہیں دیتا بلکہ قومی دماغ کام دیتا ہے اور قومی دماغ اسی وقت پیدا ہو تا ہے جب سب افراد کے دماغ ایک ہی جہت پر کام کر رہے ہوں۔اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ اس آیت میں فرماتا ہے اَرَءَیْتَ الَّذِیْ یُکَذِّبُ بِالدِّیْنِ مجھےبتاؤ تو سہی کہ وہ کون ہے جو قومی خدمت کے جذبہ سے منکر ہے ؟ اگر کوئی ایسا ہے تو وہ ضرور تباہ ہو گا۔اس سے اس طرف اشارہ کیا ہے کہ مکہ والوں میں اور دوسرے غیر عربوں میں صحیح قومی خدمت کا جذبہ نہیں اس لئے ان کا اتحاد عارضی ثابت ہو گا۔خود ان کی قوم سے غدار پیدا ہوتے رہیں گے لیکن مسلمانوں میں قومی خدمت کا جذبہ ہے اس لئے ان میں قومی دماغ پیدا ہے اور بوجہ قومی دماغ کے ان کا غریب اور امیر ایک سلک میں پرویا ہوا ہے۔وہ سب کے سب ایک مقصد سامنے رکھتے ہیں جس کو ذاتی مقاصد پر قربان کر نے کے لئے وہ کسی قیمت پر بھی تیار نہیں اس لئے لازماً مسلمان جیتیں گے اور ان کے دشمن ہاریں گے۔دین کے آٹھوین معنے وَرَ ع کے (۸)آٹھویں معنے دین کے وَرَع کے ہیں۔وَرَع کےمعنے شبہات سے محفوظ رہنے کی کوشش کے ہیں یعنی وہ چیزیں جو نا پسندیدہ اور بُری ہیں ان سے احتراز کرے اور ان سے محفوظ رہنے کی خواہش رکھے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ انسانی نفس کی تین حالتیں ہو تی ہیں ایک حالت نفس امّارہ کی ہوتی ہے جس کی طرف قرآن کریم نے اِنَّ النَّفْسَ لَاَمَّارَةٌۢ بِالسُّوْٓءِ کہہ کر اشارہ فرمایا ہے یعنی نفس کی