تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 527
وہ حالت جس میں وہ بدیوں کا حکم دیتا ہے اور انسان بدیوں کاایسا عادی ہو جاتا ہے کہ وہ گناہ اور عیب کو پسند کرنے لگ جاتا ہے۔اور ایک حالت نفس کی نفس مطمئنّہ ہو تی ہے یعنی وہ نفس اپنی حالت پر خوش ہو جاتا ہے اور سمجھ لیتا ہے کہ میرا وجود خدا تعالیٰ کے خاص منشاء کے ماتحت بعض مخصوص اغراض اور مقاصد کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔او رجو سامان خدا تعالیٰ نے میرے لئے پیدا کئے ہیں وہ بہرحال میرے لئے مناسب حال ہیں گویا وہ اپنی حالت پر مطمئن ہوجاتا ہے۔مجنون کی طرح یہ نہیںکرتا کہ کبھی خدا کی طرف چلا جائے اور کبھی شیطان کی طرف۔کبھی دین کی طرف چلا جائے اور کبھی دنیا کی طرف۔بلکہ نفس مطمئنّہ وہ ہے جو خدا کے پاس گیا اور اس کے پاس ٹک گیا۔پھر وہاں سے ہلا نہیں۔تیسرا نفس نفسِ لوّامہ ہو تا ہے جو بدیوں کو دیکھتا ہے تو محسوس کرتا ہے کہ یہ بدیاں ہیں اور نفس کو ملامت کرتا ہے کہ تمہیں ان بدیو ں سے بچنا چاہیے۔کسی سے بدی سرزد ہو جائے تو وہ افسوس کرتا ہے اور استغفار میں لگ جاتا ہے اور اپنے نفس کو سخت ملامت کرتا ہے جس پر لفظ لوّامہ دلالت کرتا ہے۔یہ حالت وَرَع کی ادنیٰ حالت ہے ورنہ اصل وَرَع یہ ہے کہ نفس کو یہ روکتا ہے اور وہ اس کے روکنے سے گناہ سے باز آجاتا ہے۔اسی نفس لوّامہ کو انگریزی دان لوگ کانشنس کہہ دیتے ہیں یا پرانے طریق کے لوگ ضمیر کی آواز کہہ دیتے ہیں۔عربی زبان میں ضمیر کے معنے انسان کے اندرونہ کے ہیں۔ضمیر کی آواز کے معنے ہوتے ہیں انسان کی اندرونی طاقتوں کا مطالبہ۔اب یورپ نے اس کانشنس کا بھی انکار کر دیا ہے۔پہلے وہ لوگ بڑی کثرت سے کانشنس کانشنس کہا کرتے تھے مگر اب وہاں ایسے فلاسفر پید اہو گئے ہیں جو کہتے ہیں کہ یہ بالکل لغو بات ہے نفس لوّامہ یا کانشنس یا ضمیر کوئی چیز نہیں درحقیقت رسم و رواج اور انسانی عادات کا ایک ردِّ عمل ہو تا ہے اسے لوگ ضمیرکی آواز کہہ دیتے ہیں۔جس ماحول میں انسان رہتا ہے اور جس قسم کی رسوم و عادات کا وہ شکار ہو تا ہے اس کے خلاف جب کوئی بات اس کے کان میں پڑتی ہے یا اس کا ذکر کرتا ہے تو اس کے دل میں نفرت پیدا ہو تی ہے مثلاً گائے ہے ہندو گائے نہیں کھاتا۔لیکن مسلمان کھاتا ہے اور اسے ذرا بھی برا محسوس نہیں ہوتا انگریز گائے کھاتا ہے اور اسے کچھ بھی بُرا محسوس نہیں ہوتا۔اگر ہندو کے سامنے گائے کے گوشت کا نام لے دو تو اسے فوراً قے آجائے گی۔لیکن مسلمان اور انگریز کو کچھ نہیں ہو گا۔وہ کہتے ہیں ا گر یہ ضمیر کی آواز ہو تی تو ایک انگریز یا مسلمان کو قے کیوں نہ آتی۔یا مثلاً سؤر انگریز کھاتا ہے یہودی اور مسلمان نہیں کھاتا اگر اس کے سامنے سؤر کا ذکر آجائے تو وہ تھو تھو کرنے لگتا ہے لیکن انگریز اور سکھ تھو تھو نہیں کرتا بلکہ اسی وقت اس کے دل میں خواہش پیدا ہو جاتی ہےکہ میں اس چیز کو استعمال کروں۔اگریہ طبعی چیز ہو تی تو ایک انگریز کے دل میں بھی پیدا ہو جاتی۔ایک یہودی کے دل میں بھی پیدا ہوجاتی۔ایک مسلمان کے دل میں بھی پیدا ہو جاتی۔