تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 525
اچھا ہوا کہ تم مجھے مل گئے لاؤ اپنا ہاتھ میرے ہاتھ میں دو اور وعدہ کرو کہ میرا پیغام میرے خاندان تک پہنچادوگے۔انہوں نے ہاتھ میں ہاتھ رکھ کر اقرار کیا کہ میں تمہارا پیغام ضرور پہنچا دوں گا۔اس پر ان زخمی صحابی نے کہا میرے عزیزوں اور رشتہ داروں اور بھائی بندوں کو جا کر کہہ دینا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری قوم کا بہترین خزانہ ہیں اور یہ ایک قومی امانت ہیں جو ہمارے پاس ہے مجھے یقین ہے کہ تمہارے دل میں بھی اس قیمتی متاع کی صحیح قدرو قیمت کا احساس ہو گا۔تاہم میں بھی اپنا فرض سمجھتا ہوں کہ یہ پیغام تمہیں پہنچا دوں کہ جب تک ہم زندہ رہے ہم نے اس امانت میں خیانت نہیں ہو نے دی اور اس کی حفاظت میں اپنا پورا زور صرف کر دیا۔اب ہم مرنے لگے ہیں اور اپنے پیچھے اس امانت کو چھوڑے جا رہے ہیں میں اپنے تمام بیٹوں، بھائیوںاور ان کی اولاد سے یہ امید کرتا ہوں کہ وہ اپنی جان سے بھی زیادہ اس مقدس امانت کی حفاظت کریں گے اور ا س میں کسی قسم کی کو تاہی واقعہ نہیں ہونے دیں گے۔(السیرۃ الـحلبیۃ غزوۃ احد) مرنے والا مرتا ہے تو کس طرح کبھی اسے اپنی بیوی کا خیال آتا ہے کبھی اپنے بچوں کا خیال آتا ہے وہ اگر کچھ بتاتا بھی ہے تو یہ کہ فلاں سے میں نے اتنا روپیہ لینا ہے۔فلاں کو اتنا قرض دینا ہے۔بچوں کی اس طرح تربیت کی جائے۔بیوی کے گذارے کا یہ انتظام کیا جائے۔مگر وہ صحابی مرتے وقت بھی اگر خیال کرتا ہے تو اپنی قوم کا بلکہ نوع انسانی کا۔وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود میں اپنی قوم ہی کی نہیں بلکہ نوع بشر کی روح کو سمٹا ہوا پاتا ہے اور اس کی قومی روح انفرادی حقوق کو بھول جاتی ہے، وہ صرف قوم اور اس کے مظہر کو دیکھتا ہے اور مرتے ہوئے اپنے باقی ماندہ خاندان کو زندہ رہنے کی نہیں بلکہ مرنے کی تلقین کرتا ہے۔اپنا حصہ لینے کی نہیں بلکہ اپنا حصہ قربان کرنے کی وصیت کرتا ہے۔کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ فرد اور خاندان کی عزت اور بچاؤ، قوم کی عزت اور بچاؤ کے ساتھ وابستہ ہے۔یہ روح اگر اب بھی مسلمانوںمیں پیدا ہوجائے تو ان کا مقابلہ نہ سکھ کر سکتے ہیں اور نہ ہندو کر سکتے ہیں۔مسلمان یوں تو سکھوں پر ہمیشہ پھبتی اڑاتے رہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ سکھ بڑی بے وقوف قوم ہے لیکن سکھ میں قومی دماغ ہےجس سے مسلمان ابھی تک محروم ہے اور یہی وجہ ہے کہ قلیل التعداد ہو نے کے با وجود مشرقی پنجاب میں سکھ جیت گیا اور مسلمان ہار گیا۔غرض قومی دماغ بڑی قیمتی چیز ہو تی ہے اور جب کسی قوم میں یہ دماغ پیدا ہو جائے تو اس کی علامت یہ ہو تی ہے کہ ہر فرد قومی بہتری کے متعلق سوچتا اور غور وفکر کرتا ہے۔جہاں بھی دو چار افراد مجلس میں بیٹھتے ہیں وہ یہی باتیں کرتے ہیں کہ ہماری قوم میں فلاں کمزوری ہے اوراس کا یہ علاج ہے فلاں نقص ہے اور اس کا یہ علاج ہے۔پھر ایک محلہ کے لوگ دوسرے محلہ والوں سے ملتے ہیں تو وہاں بھی یہی ذکر کرتے ہیں۔تیسرے محلہ والوں سے ملتے ہیں