تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 508 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 508

انہوں نے کہا جناب ایک بار پھر سوچ لیجئے اس کا نتیجہ ملک عرب کے لئے اچھا نہیں ہو گا یہاں سخت تباہی واقعہ ہو گی اور عرب کی اینٹ سے اینٹ بج جائے گی۔آپ ہمارے ساتھ چلیں گورنر نے وعدہ کیا ہے کہ وہ آپ کی سفارش کر دے گا۔اور آپ کو کو ئی نقصان نہیں پہنچے گا۔آپؐنے فرمایا جاؤ میں نے جو کچھ کہا ہے اپنے گورنر سے کہہ دو کہ میرے خدا نے آج رات تمہارے خدا کو مار دیا ہے۔اس پر وہ واپس چلے گئے اور انہوں نے گورنر کو یہ جواب سنا دیا۔اس نےجواب سن کر یہ کہا کہ یہ شخص یا تو پاگل ہے یا پھر واقعہ میں اللہ تعالیٰ کانبی ہے کسی دوسرے کے منہ سے ایسی بات نہیں نکل سکتی۔چودہ پندرہ دن گذرے تو ایک شاہی جہاز کے آنے کی اطلاع ملی گورنر نے اپنے سیکرٹری استقبال کے لئے بھیجے جب سفیر گورنر یمن کے پاس پہنچا اور ا سے خط پیش کیا تو جیسے ایرانی دستور تھا اس نے ادب کے ساتھ اس خط کو چوما۔مگر جب اس کی مہر دیکھی تو چونکہ وہ دوسرے بادشاہ کی مہر تھی اس نے اپنے درباریوں کی طرف دیکھتے ہوئے کہا وہ بات ٹھیک معلوم ہو تی ہے جو عرب کے نبی نے کہی تھی۔پھر اس نے خط کھولا تو اس کے اندر یہ الفاظ تھے جو شاہ ایران کے بیٹے کی طرف سے تھے کہ ہم تمہیں حکم دیتے ہیں کہ حکومت کے تمام آفیسرز سے ہماری اطاعت کا عہد لو اور ہم تم کو اطلاع دیتے ہیں کہ ہم نے فلاں تاریخ کو ان ظلموں کی وجہ سے جو بادشاہ کر رہا تھا اسے مار ڈالا ہے اور اب ہم خود بادشاہ ہیں اور ضروری ہے کہ ہماری اطاعت کا عہد لیا جائے۔اس کے بعد اس نے لکھا کہ ہمارے باپ نے جو ظالمانہ احکام دیئے تھے ان میں سے ایک حکم عرب کے ایک مدعیٔ نبوت کے متعلق بھی تھا کہ اسے گرفتار کر کے ہمارے پاس بھجوایا جائے ہم اس حکم کو بھی منسوخ کرتے ہیں اب اس کی تعمیل کی ضرورت نہیں۔جب اس نے تاریخ دیکھی تو وہ وہی تاریخ تھی جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا کہ ہمارے خدا نے تمہارے خدا کو آج رات مار ڈالا ہے(تاریخ الرسل والملوک ذکر خروج رسل رسول اللہ الی الملوک)۔اب دیکھو یہ فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیْدُ خدا کا کتنا بڑا نشان ہے کہ اس نے بیٹے کے ہاتھ سے باپ کو مروا ڈالا اور کس طرح اس سے ظاہر ہو تا ہے کہ دنیا کے ذرہ ذرہ پر خدا تعالیٰ کی حکومت جاری ہے۔یہی وہ عقیدہ ہے جس سے دنیا میں حقیقی عدل اور انصاف قائم ہو تا ہے یہ نہ ہو تو انصاف قائم نہیں ہو سکتا۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مجھے بتاؤ تو اس شخص کا حال جو اس دنیا میں حکومت الٰہیہ کا انکار کرتا ہے۔اگر کوئی انکار کرے تو تم دیکھو گے کہ اسے کبھی سچا تقویٰ نصیب نہیں ہو گا۔دنیا کے پردہ پر سچا تقویٰ سوائے خدا تعالیٰ کی بادشاہت ماننے کے اور کسی طرح حاصل نہیں ہو سکتا۔جس کو پتہ ہو گا کہ خدا دنیا کے تمام معاملات میں دخل دے رہا ہے اور ہر کام کا وہ نتیجہ پیدا کرتا ہے وہ بدی کرے گا کیوں۔جتنا جتنا یہ یقین بڑھتا چلا جائے گا اتنا ہی انسان کے اندر تقویٰ بھی بڑھتا چلا جائے گا اور وہ بدیوں سے بچتا چلا جائے گا۔