تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 507
انہوں نے کہا یا رسول اللہ اب آگے بڑھنے کا وقت نہیں۔لشکر جب تک دوبارہ جمع نہ ہو لے مناسب یہی ہے کہ آپ آگے نہ بڑھیں مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑے جوش سے فرمایا۔ابو بکر ؓ میرے گھوڑے کی باگ چھوڑدو۔اور پھر آپ اسے ایڑ لگا کر یہ کہتے ہوئے دشمن کی طرف بڑھے کہ اَنَا النَّبِیُّ لَا کَذِبْ۔اَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ۔(الطبقات الکبرٰی غزوۃ رسول اللہ الی حنین) میں خدا کا نبی ہوں جھوٹا نہیں میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں یعنی جب میں خدا کا نبی ہوں اور میرے متعلق اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ ہے کہ وَاللّٰہُ یَعْصِمُکَ مِنَ النَّاسِ تو وہ خود مجھے بچائے گا۔دیکھو یہ خدا تعالیٰ کے فعّال ہو نے پر ایمان کا کتنا زبردست مظاہرہ ہے۔آپ جانتے تھے کہ خدا تعالیٰ صرف عرش پر بیٹھا ہوا نہیں بلکہ اس دنیا میں بھی حکومت الٰہیہ جاری ہے۔اور تیر بھی اگر چلتا ہے تو اسی کے حکم سے چلتا ہے۔یہ کس طرح ہوسکتا ہےکہ چار ہزار تیر اندازوں کے تیر وں میں کوئی ایک تیر بھی مجھے خدا تعالیٰ کے اذن کے بغیر آلگے۔تیر خدا کا غلام ہے افسر نہیں کہ وہ اس کے حکم کے خلاف کسی کے سینہ میں آ لگے۔دیکھو چار ہزار تیر اندازسامنے ہیں راستہ تنگ ہے مگر آپ برابر آگے بڑھتے چلے جا رہے ہیں اور فرماتے ہیں اَنَا النَّبِیُّ لَا کَذِبْ۔اَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ۔میں خدا کا سچا نبی ہو ں جب مجھے خدا نے کہا ہے کہ یہ لوگ تجھے مار نہیں سکتے تو یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ ان کے تیر مجھے ہلاک کر دیں۔پھر یمن کا گورنر ایران کے بادشاہ کے حکم کے ماتحت آپ کو گرفتار کرنے کے لئے اپنے آدمی بھجواتا ہے۔یہودیوں نے اس کے پاس شکایت کی تھی کہ عرب میں ایک نئی حکومت بن رہی ہے جو آپ کے لئے پریشانی کا موجب ہو گی۔بادشاہ بےوقوف تھا اس نے یمن کے گورنر کو پیغام بھجوایا کہ میں نےسنا ہے عرب میں ایک مدعیٔ نبوت کھڑا ہوا ہے اسے فوراً گرفتار کر کے میرے پاس بھجوا دیا جائے۔گورنر یمن نے اپنے آدمی مدینہ بھجوائے وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔اور انہوں نے کہاکہ اس اس طرح ہمارے بادشاہ نے گورنر یمن کے نام حکم بھیجا تھا جس پر گورنر نے ہمیں آپ کی طرف بھجوایا ہے آپ ہمارے ساتھ چلیں۔معلوم ہو تا ہے بادشاہ کو کوئی غلط فہمی ہوگئی ہے چنانچہ گورنر نے ہمیں کہا ہے کہ ہم آپ کو یہ بھی کہہ دیں کہ میں آپ کے متعلق بادشاہ کی خدمت میں سفارش کروں گا اور اسے لکھوں گا کہ آپ کے پاس غلط رپورٹ پہنچی ہے۔اس شخص سے ملک کے امن کو کوئی خطرہ نہیں۔آپ نے فرمایا ٹھہرو میں اللہ تعالیٰ سے دعا کر لوں۔دوسرے دن وہ پھر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا ابھی کچھ اور ٹھہرو میں دعا کر رہا ہوں۔تیسرے دن وہ پھر آئے تو آپ نے فرمایاابھی کچھ اور ٹھہرو میں دعا کر رہا ہوں۔چوتھے دن وہ پھر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے عرض کیا کہ آپ اپنا فیصلہ سنائیے۔آپ نے فرمایا تم جاؤ اور گورنر سے کہہ دو کہ میرے خدا نے تمہارے خدا کو آج رات مار ڈالا ہے۔