تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 497
حسن ظنی کیوں نہ کرتا اور اس کی ضمانت کیوں نہ دے دیتا۔بہر حال وقت گذرتا جا رہا تھا اور لوگوں میں بے چینی اور اضطراب بڑھتا جا رہا تھا کہ یک دم انہوں نے دور سے گرد اٹھتی دیکھی اور انہیں محسوس ہوا کہ ایک شخص بے تحاشا اپنے گھوڑے کو دوڑاتا چلا آرہا ہے وہ گھوڑا اتنی تیزی سے دوڑا رہا تھا کہ جب وہ مجلس میں پہنچا تو اس کا گھوڑا گرا اور مر گیا۔لوگوں نے دیکھا تو وہ وہی بدوی تھا جس کا انتظار کیا جا رہا تھا۔اس نے کہا میں یتیموں کا مال دے آیا ہوں اور اب میں حاضر ہوں مجھے بے شک قتل کر دیا جائے اس کی اس وفا داری اور ایمان داری کااتنا اثر ہوا کہ مقتول کے وارثوں نے کہا کہ ہم اپنا خون اس کو معاف کرتے ہیں ( اسلام میں مقتول کے وارث اگر چا ہیں تو قاتل کو معاف کر سکتے ہیں ) یہ ایک مثال نہیں۔درجنوں اور سینکڑوں اور ہزاروں ایسی مثالیں تاریخ اسلا م میں سے پیش کی جا سکتی ہیں۔پالیٹکس کی نہیںڈپلو میسی کی نہیں جو یوروپین قومیں پیش کرتی ہیں بلکہ اس قسم کی سیدھی صاف اور سادہ مثالیں جن سے پتہ لگتا ہے کہ سچ اور انصاف اور قربانی اور استقامت کیا چیزیں ہیں اور کس طرح مسلمانوں نے نڈر ہو کر ان نیکیوں پر عمل کیا ہے۔مگر سوال یہ ہے کہ انہوں نے کیوں عمل کیا ؟ اسی لئے کہ وہ سمجھتے تھے کہ اگر ہم مارے بھی گئے تو کیا ہوا اگلے جہان میں ہمیں بدلہ مل جائے گا۔پس اگلے جہان پر اگر یقین نہ ہو تو کامل نیکی کبھی پیدا نہیں ہو سکتی۔اگلے جہان پر ایمان ہی ہے جو اس صداقت کو ظاہر کرتا ہے کہ آخر نیک اعمال ہی کی فتح ہو تی ہے۔(۴) دین کے ایک معنی اَلسُّلْطَانُ وَالْمُلْکُ وَالْـحُکْمُ کے ہیں۔یعنی حکومت اور بادشاہت۔مگر حکومت اور بادشاہت سے آج کل کی حکومت اور بادشاہت مراد نہیں جسے آئینی بادشاہت کہتے ہیں اور جو پارلیمنٹ کے ذریعہ سے چلتی ہے بلکہ اس سےوہ حکومت اور ملوکیت مراد ہے جو اقتدار رکھتی ہے۔اَلسُّلْطَانُ وَالْمُلْکُ وَ الْـحُکْمُ کےیہ بھی معنے نہیں کہ وہ حکومت جو ڈنڈے کے زور سے چلتی ہے اور جس میں جبر اور تشدّد سے احکام منوائے جاتے ہیں۔پس جس طرح ان معنوں میں سے وہ حکومت نکل جاتی ہے جو پارلیمنٹری ہو تی ہے اور لوگوں کے مشورہ سے چلتی ہے اسی طرح اَلسُّلْطَانُ وَالْمُلْکُ وَ الْـحُکْمُ میں سے وہ حکومت بھی نکل جاتی ہے جو ڈنڈے کے زور سے چلتی ہے اور زبر دستی اپنے احکام لوگوں سے منواتی ہے۔سُلْطَان کا لفظ ان حکومتوں کو بھی نکال دیتا ہے جس کے حکمران صرف رسمی بادشاہ ہوتے ہیں اور جن کا کام صرف کاغذات پر دستخط کرنا ہو تا ہے اور حُکْم کا لفظ ان حکومتوں کو نکال دیتا ہے جو ڈنڈے کے زور سے کام کرتی ہیں۔عربی زبان کی ایک خصوصیت عربی زبان کی یہ خصوصیت ہے کہ اس کے تمام الفاظ اپنے اندر گہری حکمت رکھتے ہیں۔مثلاً مُلْک کا لفظ ہی لے لو۔ہماری زبان میں لوگ مُلک کا لفظ عام طور پر استعمال کرتے ہیں مگر جب ان