تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 496 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 496

لئے تیار ہے۔تب جس طرح آگ کے پاس بیٹھنے والا گرم ہو جاتا ہے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نور ایمان کی چنگاری سے ابو طالب کا دل بھی گرم ہو گیا اور اس نے کہا اے میرے بھتیجے جا اور اپنے کام میں مشغول رہ۔میری قوم اگر مجھے چھوڑتی ہے تو بے شک چھوڑ دے میں تجھے چھوڑنے کے لئے تیار نہیں کیا دنیا کے فلسفیوں میں اس قسم کی کوئی مثال مل سکتی ہے جس میں یہ سارےکونے موجود ہوں۔یوں نہیں کہ فلاں فلسفی مارا گیا بلکہ ایسی مثال جس میں اس واقعہ کی طرح ہر قسم کی پیشکش کی گئی ہو اور وہ پھر بھی اپنے دعویٰ پر قائم رہا ہو۔یقیناً یورپ کے کسی فلسفی میں تم ایسی مثال تلاش نہیں کر سکتے۔لیکن اسلام میں تمہیں ایسی ہزاروں مثالیں دکھائی دیں گی۔صرف محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں ہی نہیں بلکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل ان کے غلاموں اور ان کے چاکروں میں بھی حضرت عمر ؓ یا حضرت عثمان ؓ کے زمانہ میں ایک بدوی سے قتل ہو گیا اور اس کا مقدمہ قاضی کے سامنے پیش ہوا قتل ثابت تھا اس لئے فیصلہ ہوا کہ اسے قتل کی سزا دی جائے۔اس نے قاضی کو کہا کہ میرے پاس کچھ یتیموں کا مال پڑا ہوا ہے میں تو بے شک قتل کا سزا وار ہوں مگر میرے مرنے سے وہ یتیم بھی مر جائیں گے میں نے ان کا مال زمین میں ایک مقام پر دفن کیا ہوا ہے اور میرے سوا اس کا کسی کو علم نہیں مجھے تین دن کی اجازت دیجئے تاکہ میں جا کر وہ مال ان یتیموں کے حوالے کر آؤں۔قاضی نے کہا میں اجازت تو دے دوں مگر تمہارا ضامن کون ہے ہمیں کیا پتہ ہے تم واپس بھی آؤ گے یا نہیں ؟ جنگلوں میں جو قومیں بستی ہیں ان کا پتہ لگانا بڑا مشکل ہو تا ہے اس لئے قاضی نے ضامن کا مطالبہ کیا۔اس نے ادھر ادھر دیکھا اور حضرت ابو ذر غفاری ؓ پر نظر ڈال کر کہا یہ میرے ضامن ہیں۔قاضی نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ اس کی ضمانت دینے کے لئے تیار ہیں ؟ انہوں نے کہا ہاں۔چنانچہ اسے چھوڑ دیا گیا اور وہ چلا گیا۔جب تیسرادن آیا تو عصر کے وقت اس کا انتظار کیا جانے لگا۔سورج غروب ہو نے میں دو گھنٹے رہتے تھے۔پون گھنٹہ گذرا مگر وہ نہ آیا۔جب وقت گذرنے لگااور اس بدوی کا کچھ پتہ نہ لگا تو حضرت ابو ذر غفاری ؓ جو ایک مخلص صحابی تھے ان کی جان خطرہ میں دیکھ کر مسلمانوں میں گھبراہٹ پیدا ہوئی اور انہوں نے حضرت ابو ذر غفاریؓ سے پوچھا کہ حضرت وہ کون شخص تھا جس کی آپ نے ضمانت دی تھی وقت ختم ہو نے کو آیا ہے اور اس کا کچھ پتہ ہی نہیں لگتا۔انہوں نے جواب میں کہا مجھے تو معلوم نہیں کہ وہ کون تھا۔لوگوں نے ان سے کہا تو پھر آ پ نے ایک نامعلوم شخص کی اتنی بڑی ضمانت کیوں دی ؟ حضرت ابو ذر غفاری ؓ نے فرمایا اس نے جب سب لوگوں پر نظر ڈال کر میرے متعلق کہا کہ یہ میرے ضامن ہیں تو میری غیرت نے برداشت نہ کیا کہ ایک مسلمان نے جب بغیر جانے کے مجھ پر اعتبار کیا ہے تو میں اس پر اعتبار نہ کروں۔وہ بھی مجھے نہیں جانتا تھا مگر جب اس نے مجھ پر یہ حسن ظنی کی کہ میں اس کی ضمانت دے دوں گا تو میںا س پر