تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 498 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 498

سے پو چھا جائے کہ ملک کسے کہتے ہیں تو وہ کہتے ہیں اسی علاقہ کو جس میں ہم بستے ہیں لیکن اہل عرب اور وہ لوگ جو عربی زبان کو سمجھتے ہیں وہ اس کے یہ معنے نہیں لیں گے بلکہ وہ م، ل اور ک کے مجموعہ سے اس کے معنے اخذ کریں گے۔در اصل عربی زبان کو جو خصوصیتیں حاصل ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ وہ حرفوں سے بنی ہے۔میرا یہ مطلب نہیں کہ باقی زبانیں حرفوں سے نہیں بنیں۔بلکہ میرا مطلب یہ ہے کہ باقی زبانوں کے حروف اتفاقی حادثہ ہیں مگر عربی زبان کے حروف اتفاقی حادثہ نہیں بلکہ تمام حروف اپنے اندر مستقل معنے رکھتے ہیں اور ان کے مجموعہ کے معنے ان حروف سے پیدا ہو تے ہیں۔گویا اپنی ذات میں کوئی ملا جلا لفظ معنے نہیں دیتا بلکہ تمام حروف مل کر معنے پیدا کرتے ہیں دوسرے الفاظ میں یوں سمجھ لو کہ عربی زبان کی نسبت باقی زبانوں سے وہی ہے جو دنیا کی دوسری زبانوں کو چینی زبان سے ہے۔چینی زبان میں ہر جملہ ایک حرف سمجھا جاتا ہے اور ہر مفہوم کو ادا کرنے کے لئے بنے بنائے جملےاستعمال ہو تے ہیں۔مثلاً اردو زبان میں جب ہم کہتے ہیں ’’گھوڑا لاؤ‘‘ تو یہ ایک مستقل جملہ ہوتا ہے اور جب ہمیں ضرورت محسوس ہو تی ہے ہم اسی میں تھوڑی بہت تبدیلی کر دیتے ہیں مثلاً ہم کہہ دہتے ہیں گھوڑا لائے۔کبھی کہہ دیتے ہیں گھوڑا لایا۔کبھی کہہ دیتے ہیں گھوڑا لائیں۔گویا تبدیلی صرف فعل میں واقعہ ہوتی ہے۔مگر چینی زبان میں گھوڑا لاؤ ایک مستقل حرف ہو تا ہے۔گویا چینی زبان میں جملہ اپنی ذات میں لفظ کا قائم مقام ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں تو صرف چھبیس حروف ِ تہجی ہو تے ہیں مگر ان کے ہاں کئی ہزار حروف ِ تہجی ہیں کیونکہ جب ایک مستقل جملہ کو حرف بنا یا جائے گا تو سیدھی بات ہے کہ اس طرح حروف ہزارو ں ہزار بنتے چلے جائیں گے۔پس عربی اور چینی میں یہ فرق ہے کہ چینی زبان میں جملہ حرف بن جاتا ہے اور عربی زبان میں حرف لفظ کا کام دیتا ہے معنے صرف لفظ سے شروع نہیں ہو تے بلکہ حرف سے شروع ہو تے ہیں۔چنانچہ ملک کے لفظ میں م ل ک کے ملنے کے بعد معنے پیدا نہیں ہو ئے بلکہ م کےبھی معنی ہیں ل کےبھی معنی ہیں اور ک کے بھی معنے ہیں اور جب یہ حروف کہیں جمع ہو جاتے ہیں تو ان کے اندر ایک خاص معنے پیدا ہو جاتے ہیں اور اس وجہ سے ان حروف کو خواہ آگے کرو خواہ پیچھے ایک خاص مفہوم ان تمام الفاظ میں مشترک پایا جائے گا۔چنانچہ عربی زبان کے وہ تما م الفاظ جو م ل اور ک سے مرکب ہیں ان کو اگر غور سے دیکھا جائے تو ان میں طاقت اور قوت کے معنے پائے جائیں گے مثلاً مُلْک حکومت بادشاہت اور طاقت کو کہتے ہیں مَلِک بادشاہ کو کہتے ہیں مَلَک فرشتے کو کہتے ہیں۔اس کو الٹا دو تو کَلْمٌ بن جائے گا جس کے معنے زخم کرنے کے ہیں اس میں بھی طاقت کی ضرورت ہو تی ہے۔لَکْمٌ تھپڑ مارنے کو کہتے ہیں اس میں بھی طاقت کے معنے پائے جاتے ہیں غرض م ل ک سے جو الفاظ بھی