تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 42 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 42

مشغول ہوجائیں۔وَقِیْلَ کَتَبَ اور بعض لوگوں نے یہ معنے کئے ہیں کہ انہوںنے لکھ کر اپنی قوم کو یہ نصیحت کی۔جیسے مجمع البحار کے حوالہ میں یہ ذکر آچکا ہے کہ چونکہ انہوںنے نذر مانی ہوئی تھی کہ میں نے لوگوں سے بولنا نہیں اس لئے انہوں نے اپنے ہاتھ سے زمین پر یہ الفاظ لکھ دیئے کہ سَبِّحُوْا بُكْرَةً وَّ عَشِيًّا۔وَعَلٰی ھٰذِہِ الْوُجُوْہِ قَوْلُہٗ اور انہی وجوہ کے مطابق اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوًّا شَيٰطِيْنَ الْاِنْسِ وَ الْجِنِّ يُوْحِيْ بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوْرًا۔اسی طرح ہم نے ہر نبی کے لئے کوئی نہ کوئی دشمن مقرر کیا ہے۔چنانچہ انسانوں اور جنوں میں سے جو شیطان ہیں ان میں سے بعض بعض کی طرف ملمع سازی اور دھوکا و فریب کی باتیں وحی کرتے ہیں۔وہ کہتے ہیں یہاں يُوْحِيْ بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضٍ کے یا تو یہ معنے ہیں کہ وہ رمز کرتے ہیں یا یہ معنے ہیں کہ وہ ایک دوسرے کو لکھتے ہیں اور یا پھر یہ معنے ہیں کہ وہ مختلف ذرائع سے اپنے مقصد و مدعا کو ان تک پہنچادیتے ہیں۔وَقَولُہٗ وَ اِنَّ الشَّيٰطِيْنَ لَيُوْحُوْنَ اِلٰۤى اَوْلِيٰٓـِٕهِمْ۠ فَذَالِکَ بِالْوَسْوَاسِ الْمُشَارِ اِلَیْہِ بِقَوْلِہٖ مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ وَبِقَوْلِہٖ عَلَیْہِ السَّلَامُ وَاِنَّ لِلشَّیْطٰنِ لَمَّۃُ الشَّـرِّ اور یہ جو قرآن کریم میں آیت آتی ہے کہ اِنَّ الشَّيٰطِيْنَ لَيُوْحُوْنَ اِلٰۤى اَوْلِيٰٓـِٕهِمْ۠ شیطان اپنے اولیاء کی طرف وحی کرتے ہیں اس سے مراد یہ ہے کہ وہ وسوسے ڈال کر ان کے دلوں کو خراب کرتے ہیں۔اسی کی طرف اس آیت میںاشارہ پایا جاتا ہے کہ مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ الخ یعنی خناس کے وساوس کے شر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنی چاہیے۔اور خناس وہی ہوتا ہے جو مختلف قسم کے وساوس و شبہات کے ذریعہ خدا اور اس کے رسول کے خلاف دل میں باتیں پیدا کردے۔وَبِقَوْلِہٖ عَلَیْہِ السَّلَامُ وَاِنَّ لِلشَّیْطٰنِ لَمَّۃُ الشَّـرِّ اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اس قول میں شیطانی وساوس سے بچنے کی تلقین فرمائی ہے کہ اِنَّ لِلشَّیْطٰنِ لَمَّۃُ الشَّـرِّ شیطانی تحریکوں سے تمہیں ہر وقت اپنے آپ کو محفوظ رکھنے کی کوشش کرنی چاہیے کیونکہ وہ نقصان کا موجب ہوتی ہیں۔وَیُقَالُ لِلْکَلِمَۃِ الْاِلٰھِیَّۃِ الَّتِیْ تُلْقٰی اِلٰی اَنْبِیَاءِہٖ وَ اَوْلِیَاءِہٖ وَحْیٌ اور وہ کلمہ الٰہیہ جو اللہ تعالیٰ کے انبیاء اور اولیاء کی طرف نازل کیا جاتا ہے اسے بھی وحی کہتے ہیں۔ان الفاظ میں مفردات والوں نے ایک بہت بڑے مسئلہ کا حل کردیاہے جو موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے لئے ٹھوکر کا موجب بنا ہوا ہے۔میں نے دیکھا ہے جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے متعلق ہماری جماعت کی طرف سے یہ بات پیش کی جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ پر وحی نازل فرمائی تو مسلمان شور مچادیتے ہیں کہ یہ بالکل غلط ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد وحی الٰہی کہاںنازل ہوسکتی ہے۔حالانکہ مفردات والے لکھتے ہیں وَیُقَالُ لِلْکَلِمَۃِ الْاِلٰھِیَّۃِ الَّتِیْ تُلْقٰی اِلٰی اَنْبِیَاءِہٖ وَاَوْلِیَاءِہٖ وَحْیٌ۔اللہ تعالیٰ کے انبیاء اور اس کے اولیاء کی طرف جو کلام نازل ہوتا ہے اسے وحی کے نام سے موسوم کیا