تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 43 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 43

جاتا ہے۔ہم تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو نبی تسلیم کرتے اور آپ کی نبوت و رسالت پر ایمان رکھتے ہیں۔اس لئے ضروری ہے کہ ہم آپ کے الہامات کو وحی قرار دیں۔لیکن مفردات والوں نے تو اللہ تعالیٰ کے اس کلام کو بھی جو ولی پر نازل ہوتا ہے وحی قرار دیا ہے اور درحقیقت یہی بات صحیح اور درست ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو کلام بھی نازل ہو خواہ وہ نبی پر نازل ہو یا ولی پر بہرحال وحی ہوتاہے۔اب تو اس قسم کی بحثیں کم ہوگئی ہیں لیکن جب میں بچہ تھا اس وقت مخالفین کی طرف سے بڑے بڑے اشتہارات اس مضمون کے شائع ہوا کرتے تھے کہ مرزا صاحب نعوذ باللہ کافر اور بے دین ہیں کیونکہ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ مجھ پر وحی نازل ہوتی ہے۔لوگوں میں اس وقت مخالفت کا ایک عجیب طوفان بپا تھا اور وحی کے لفظ کے استعمال پر مخالفین کی طرف سے بڑے بڑے فتوے دیئے جاتے تھے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو کافر اور بے دین قرار دیا جاتا تھا۔مگر امام راغب اس جگہ کھلے الفاظ میں لکھتے ہیں کہ جوکلام اللہ تعالیٰ کے نبیوں اور اس کے ولیوں پر نازل ہوتاہے اس کلام کو بغیر کسی فرق اور امتیاز کے وحی کہا جاتا ہے۔پھر فرماتے ہیں وَذَالِکَ اَضْـرُبٌ اور یہ کلام کئی اقسام کا ہوتا ہے۔حَسْبَ مَا دَلَّ عَلَیْہِ قَوْلُہٗ وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنْ يُّكَلِّمَهُ اللّٰهُ اِلَّا وَحْيًا اَوْ مِنْ وَّرَآئِ حِجَابٍ اَوْ يُرْسِلَ رَسُوْلًا فَيُوْحِيَ بِاِذْنِهٖ مَا يَشَآءُ١ؕ اِنَّهٗ عَلِيٌّ حَكِيْمٌ(الشوریٰ:۵۲)۔اسی کی طرف قرآن کریم کی یہ آیت اشارہ کرتی ہے کہ مَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنْ يُّكَلِّمَهُ اللّٰهُ اِلَّا وَحْيًا اَوْ مِنْ وَّرَآئِ حِجَابٍ اَوْ يُرْسِلَ رَسُوْلًا یعنی کسی بندے کی یہ شان نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس سے کلام کرے سوائے ان تین صورتوں کے کہ یا اس پر وحی نازل کرتا ہے یا اس سے مِنْ وَّرَآئِ حِجَابٍ کلام کرتا ہے یا اس کی طرف رسول بھیجتا ہے۔فَيُوْحِيَ بِاِذْنِهٖ مَا يَشَآءُ اور وہ فرشتہ رسول اللہ تعالیٰ کے حکم کے ماتحت اس انسان کی طرف وہ وحی نازل کرتا ہے جس کا نازل کرنا اللہ تعالیٰ کے منشاء میں داخل ہوتا ہے یا جس حد تک اللہ تعالیٰ کوئی کلام اتارنا چاہتا ہے اس حد تک اپنے رسول کے ذریعہ اتار دیتا ہے۔اِنَّهٗ عَلِيٌّ حَكِيْمٌ یقیناً اللہ تعالیٰ بہت بلند شان والا اور بڑی حکمت والا ہے۔امام راغب لکھتے ہیں وَذَالِکَ اِمَّا بِرَسُوْلٍ مُّشَاھَدٍ۔اس وحی کے وقت یا تو ایسا رسول سامنے آتا ہے کہ تُرٰی ذَاتُہٗ اس کی ذات نظر آتی ہے۔وَیُسْمَعُ کَلَامُہٗ اور وہ جو کچھ بات کرتا ہے وہ سنی جاتی ہے۔کَتَبْلِیْغِ جِبْـرِیْلَ عَلَیْہِ السَّلَامُ لِلنَّبِیِّ فِیْ صُوْرَۃٍ مُّعَیَّنَۃٍ۔جیسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جبریل ایک خاص شکل میں ظاہر ہوکر خدا تعالیٰ کا پیغام پہنچایا کرتا تھا۔حدیثوں میں آتا ہے جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر پہلی وحی نازل ہوئی تو اس وقت غار حرا میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جبریل کو دیکھا اور انہوں نے آپ سے کلام کیا۔پھر فترۃ کے بعد جب دوسری وحی نازل ہوئی تو اس وقت بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جبریل کو دیکھا مگر غار حرا