تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 41
تو وحی متلو ادھوری رہ جائے۔اس آیت کے بے شک اور بھی معنے ہیں مگر ایک ظاہری معنے یہ بھی ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اللہ تعالیٰ کی وحی چونکہ سرعت کے ساتھ نازل ہوتی تھی اس لئے آپ بھی جلدی جلدی اس کلام کو اپنی زبان سے دہرانے لگتے۔پس قرآن کریم بھی اس حقیقت کو درست تسلیم کرتا ہے کہ وحی الٰہی جلدی جلدی نازل ہوتی ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بھی اپنے تجربہ کی بنیاد پر یہی تحریر فرمایا ہے کہ وحی الٰہی میں بہت بڑی شان اور عظمت اور سرعت پائی جاتی ہے۔لغوی معنے بھی وحی کے اشارۃالسریعہ کے ہیں جو اس کیفیت پر روشنی ڈالتے ہیں جو نزول وحی کے وقت ہوتی ہے۔پھر کہتے ہیں وَذَالِکَ یَکُوْنُ بِالْکَلَامِ عَلٰی سَبِیْلِ الرَّمْزِ وَالتَّعْرِیْضِ کبھی یہ اشارہ کلام کے ذریعہ ہوتا ہے لیکن اس میں کوئی تعریض یا رمزپائی جاتی ہے کھلا اور واضح کلام نہیںہوتا وَقَدْ یَکُوْنُ بِصَوْتٍ مُّـجَرَّدٍ عَنِ التَّـرْکِیْبِ اور کبھی صرف آوازاس میں پائی جاتی ہے اور الفاظ نہیں ہوتے وَبِاِشَارَۃِ بَعْضِ الْـجَوَارِحِ اور کبھی بعض جوارح کے اشاروں سے کام لیا جاتا ہے جیسے بعض لوگ آنکھ سے اشارہ کر تے ہیں بعض انگلی سے اشارہ کرتے ہیں بعض سر کو ہلا کر اشارہ کردیتے ہیں وَبِالْکِتَابَۃِ اور کبھی کتابت بھی اس میں شامل ہوتی ہے۔یہ امر یاد رکھنا چاہیے کہ مفردات والے یہاں وحی الٰہی کا ذکر نہیں کررہے بلکہ وحی کے صرف لغوی معنے بیان کر رہے ہیں کہ وہ کیا کیا ہیں۔پھر لکھتے ہیں وَقَدْ حُـمِلَ عَلٰی ذَالِکَ قَوْلُہٗ تَعَالٰی عَنْ زَکَرِیَّا۔انہی معنوں پر قرآن کریم کی اس آیت کو محمول کیا گیا ہے جو حضرت زکریا علیہ السلام کے متعلق آتی ہے کہ فَخَرَجَ عَلٰى قَوْمِهٖ مِنَ الْمِحْرَابِ فَاَوْحٰۤى اِلَيْهِمْ اَنْ سَبِّحُوْا بُكْرَةً وَّ عَشِيًّا یعنی قرآن کریم میں جویہ آتا ہے کہ حضرت زکریا علیہ السلام محراب سے نکل کر اپنی قوم کے سامنے گئے اور ان کی طرف وحی کی کہ سَبِّحُوْا بُكْرَةً وَّ عَشِيًّا تم صبح اور شام خدا تعالیٰ کی تسبیح کرتے رہو تاکہ مجھ سے خدا تعالیٰ نے جو وعدہ کیا ہے وہ جلد پورا ہو۔چونکہ اس وقت حضرت زکریا کو خاموش رہنے کا حکم تھا اس لئے حضرت زکریا کی باتوں کا جو ذکر قرآن کریم میں آتا ہے اس کے متعلق علماء میں اختلاف ہے۔چنانچہ قَدْ قِیْلَ رَمَزَ بعض لوگوں نے اس کے یہ معنے کئے ہیں کہ انہوں نے اشارہ سے اپنی قوم کو سمجھایا کہ تم صبح و شام خدا تعالیٰ کی تسبیح کرو تاکہ اس کا فضل نازل ہو۔وَقِیْلَ اِعْتِبَارٌ اور بعض نے اس کے معنے اعتبار کے کئے ہیں۔اعتبار کے معنے لغت میں کسی کے قول یا فعل سے استنباط کرنے اور عقلی طور پر ایک نتیجہ اخذ کرنے کے ہوتے ہیں۔اس لحاظ سے معنے یہ ہوں گے کہ حضرت زکریا علیہ السلام کی عملی حالت اور ان کے خشوع و خضوع اور تضرع اور زاری اور توجہ الی اللہ کو دیکھ کر قوم نے خودبخودیہ نتیجہ نکال لیا کہ ہمیں یہی حکم دے رہے ہیں کہ ہم بھی اللہ تعالیٰ کی تسبیح و تحمید میں