تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 40
وقت تک نہیں آئے گا جب تک دوبارہ اس شخص پر وحی نازل نہ ہوجائے جو مثیل ہوگا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اور جس کی سچائی کے لئے اسے علامت قرار دیا گیا ہے۔پس مُوْحٰی اِلَیْہِ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام بھی۔اور بِاَنَّ رَبَّكَ اَوْحٰى لَهَا میں ان دونوں وحیوں کی طرف اشارہ ہے۔وحی اوّل کی طرف اس لئے کہ وہ ہادی ہے اور وحی ثانی کی طرف اس لئے کہ وہ مثال کے رنگ میں وہی جلوہ دوبارہ ظاہر کرنے والی ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ ظاہر ہوا۔وحی کی تشریح علمائے سلف کے نزدیک وحی کیا شے ہے اس بارہ میں لغت کے حوالہ جات تو اوپر لکھے جاچکے ہیں اب میں اس کی حقیقت شرعی کے متعلق کچھ روشنی ڈالنا چاہتاہوں۔اس بارہ میں بہترین اجمالی حوالہ پرانے علماء کے خیالات کے متعلق ایک لغت ہی کی کتاب سے ملتا ہے اور وہ لغات قرآن کی کتاب مفرداتِ راغب ہے۔اس میں لکھا ہے اَصْلُ الْوَحْیِ: اَلْاِشَارَۃُ السَّـرِیْعَۃُ وحی کے اصل معنے اشارہ کے ہوتے ہیں مگر ایسا اشارہ جو جلدی سے کیاجائے۔اشارے دو طرح ہوتے ہیں ایک تو آہستگی اور آرام سے کیاجاتا ہے مگر ایک ایسی جلدی سے کیا جاتا ہے کہ وہ شخص تو سمجھ جاتا ہے جس کو ہم نے اشارہ کیا ہوتا ہے مگر دوسرے لوگ نہیں سمجھ سکتے۔پس مفردات والے کہتے ہیں کہ وحی کے حقیقی معنے اَلْاِشَارَۃُ السَّـرِیْعَۃُ کے ہیں۔اشارۃ سریعہ میں درحقیقت اخفاء شامل ہوتا ہے۔چنانچہ بعض لوگوں کو دیکھا گیا ہے کہ وہ بات کرتے وقت جلدی سے آنکھ مارجاتے ہیں یا انگلی سے اشارہ کردیتے ہیں یا سر کو کسی خاص طریق پر حرکت دے دیتے ہیں جس سے ان کی غرض یہ ہوتی ہے کہ ہم اپنے مقصد کا اظہار اس شخص پر کردیں جسے بات بتانا چاہتے ہیں اور دوسرے لوگوں کو ہمارے اشارہ کا علم نہ ہو۔گویا محض اشارہ اور اشارۃ سریعہ میں یہ فرق ہوتا ہے کہ اشارے سے تو صرف اتنی غرض ہوتی ہے کہ دوسرے شخص کو کوئی بات سمجھادی جائے خواہ اس کا کسی اور کو علم ہو یانہ ہو۔مگر اشارۃ سریعہ سے یہ غرض ہوتی ہے کہ اشارہ بھی ہوجائے اور مخاطب کے سوا دوسروں کو اس کا علم بھی نہ ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بھی حقیقۃ الوحی اور بعض دوسری کتب میں جہاں وحی کی تشریح فرمائی ہے وہاں اپنے تجربہ کی بنیاد پر لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کلام نہایت سرعت کے ساتھ نازل ہوتا ہے۔یہی حقیقت قرآن کریم نے بھی بیان کی ہے اس لئے کہ قرآن کریم میں آتا ہے لَاتُحَرِّكْ بِهٖ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهٖ۔اِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهٗ وَ قُرْاٰنَهٗ (القیامۃ:۱۷،۱۸) چونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی الٰہی سرعت کے ساتھ نازل ہوتی تھی اس لئے آپ جلدی جلدی اس کو دہراتے جاتے تھے تاکہ الفاظ پر قابو پاسکیں۔اللہ تعالیٰ آپ کو تسلی دیتا ہے کہ ایسا کرنے کی ضرورت نہیں تیرا الہام شرعی ہے اور شرعی الہام بھولا نہیں کرتا کیونکہ اگر وہ بھولے