تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 39 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 39

بِاَنَّ رَبَّكَ اَوْحٰى لَهَا سے مراد یہ ہے کہ بِاَنَّ رَبَّكَ اَوْحٰى اِلٰى اِمَامِ الزَّمَانِ یعنی جس کی طرف وحی کی گئی ہے اس سے مراد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی ہیں اور امام الزمان بھی جس کی طرف اس وقت کہ ان پیشگوئیوں کے پورا ہونے کا وقت قریب ہوگا دوبارہ وحی کی جائے گی۔آپ کا مطلب یہ تھا کہ دنیا میں مختلف قسم کے زلازل کے ظہور کے متعلق جو خبریں آپ کو دی گئی تھیں ان کی طرف بھی اس میں اشارہ ہے۔چونکہ سوال پیدا ہوتا تھا کہ یہ زلازل پہلے کیوں نہیں آئیں گے اس وقت کیوں آئیں گے جب مسیح موعودؑ کی بعثت ہوگی؟ اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب یہ دیا ہے کہ یہ زلازل اس وقت اس لئے آئیں گے کہ یہ اس کی سچائی کی علامت قرار دیئے گئے ہیں۔چنانچہ جب مسیح موعود آئے گا اور اس علامت کے ظہور کا زمانہ قریب آجائے گا اللہ تعالیٰ پھر اپنا الہام نازل کرکے مسیح موعودؑ کو خبر دے گا کہ لو وہ زمانہ اب آگیا جس کی ہم قرآن کریم میں خبر دے چکے تھے۔اس طرح تکرار الہام نہ صرف زمانۂ زلازل کے قرب پر دلالت کرے گا بلکہ اس بات کا بھی ثبوت ہوگا کہ یہی وہ مامور ہے جس کی سچائی ثابت کرنے کے لئے زلازل کا ظہور ہورہا ہے۔پس اس وحی کے بعد دنیا میں زلازل کا سلسلہ اس لئے شروع ہوگا تا کہ یہ زلازل امامِ زمان کی سچائی کا ثبوت قرار پائیں اور دنیا غور کرے کہ اگر وہ خدا تعالیٰ کا مامور نہیں تو آخر وجہ کیا ہے کہ جب کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں آسکتا تھا کہ بڑے بڑے زلازل سے دنیا کا نقشہ پلٹنے والا ہے اس نے ان تاریک دنوں کی خبریں دیں اور پھر وہ حرف بحرف پوری ہوگئیں۔غرض مُوْحٰی اِلَیْہِ دونوں ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم وحی اوّل کے لحاظ سے اور مسیح موعودؑ وحی ثانی کے لحاظ سے۔اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَا وَاَخْرَجَتِ الْاَرْضُ اَثْقَالَهَا کی پہلی وحی چونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی اور درحقیقت آپ کی صداقت کے اظہار کے لئے ہی قیامت تک تمام نشانات کا ظہور ہوگا اور جو شخص بھی لوگوں کی ہدایت کے لئے کھڑا ہوگا وہ بہرحال آپ کا غلام ہوگا۔اس لئے اوّل مصداق اس آیت کے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں مگر چونکہ اللہ تعالیٰ نے اس زلزلۂ عظیمہ کے اظہار کو روکے رکھا جب تک کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام پر دوبارہ الہام نازل نہ ہوا تا وہ بات پوری ہو جو لَمْ يَكُنِ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ وَ الْمُشْرِكِيْنَ مُنْفَكِّيْنَ حَتّٰى تَاْتِيَهُمُ الْبَيِّنَةُ۔رَسُوْلٌ مِّنَ اللّٰهِ میں بیان کی گئی تھی اور بتایا گیا تھا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مثیل کے ذریعہ ایک اور زمانہ میں بھی ظاہر ہوں گے اور دوبارہ لوگوں کو کفر و شرک کی تاریکیوں سے نجات دیں گے اس لئے اس آیت کے دوسرے مصداق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مقدر کیا ہوا تھا کہ یہ زلزلہ اس