تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 431
کے متعلق کیا کیا پیشگوئیاں کی ہوئی ہیں مگر اب ان کے دلوں میں ان سفروں کی ایسی محبت پیدا کر دی گئی ہے کہ یہ نہایت باقاعدگی کے ساتھ گرمیوں میں شام کا اور سردیوں میں یمن کا سفر کرتے ہیں یمن میں جاتے ہیں تو وہاں کے لوگوں سے اس قسم کی باتیں سنتے ہیں کہ ایک نبی آنےوالا ہے اور شاید وہ عرب سے ہی پیدا ہو۔شام میں جاتے ہیں تو وہاں کے لوگوں سے سنتے ہیں کہ ایک نبی آنے والا ہے۔اور شاید وہ عرب سے ہی پیدا ہو۔اس طرح ان کے کانوں کو ہم نے ان پیشگوئیوں سے آشنا رکھا جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور کے متعلق تھیں تاکہ آپ کے دعویٰ کو سنتے ہی وہ یک دم انکار نہ کر دیں اور واقعہ میں مکہ والوں کو کلامِ الٰہی سے جتنا بُعد تھا اس کو دیکھتے ہوئے یہ کتنا مشکل تھا کہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سن کر آپ پر ایمان لا سکتے۔یہ انہی پیشگوئیوں کے سننے کا نتیجہ تھا کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعویٰ فرمایا تو مکہ میں سے ہی کچھ لوگ ایسے کھڑے ہو گئے جو فوراً آپ پر ایمان لے آئے چنانچہ جس دن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعویٰ فرمایا حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ مکہ میں نہیں تھے بلکہ مکہ سے کہیں باہر گئے ہوئے تھے۔واپس آکے تو چونکہ سخت گرمی کا موسم تھا ایک دوست کے ہاں دوپہر کے وقت کچھ سستانے کے لئے ٹھہرے وہ ابھی لیٹے نہیں تھے کہ ان کے دوست کی لونڈی سے برداشت نہ ہو سکا اور وہ کہنے لگی۔ہائے ہائے بیچارا اس کا دوست تو پاگل ہو گیا ہے۔حضرت ابوبکرؓ نے ادھر ادھر دیکھا اور سمجھا کہ یہ الفاظ شاید میرے متعلق ہی کہے گئے ہیں۔چنانچہ انہوں نے اس سے پوچھا کہ کون دوست؟ اس نے کہا تمہارا دوست محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) حضرت ابوبکرؓ نے پوچھا کیا ہوا؟ وہ لونڈی کہنے لگی وہ کہتا ہے میرے ساتھ فرشتے باتیں کرتے ہیں۔حضرت ابوبکرؓ اس وقت لیٹنے ہی لگے تھے کہ یہ بات سن کر آپ نے چادر سنبھالی اور دوست سے کہا میں اب جاتا ہوں۔اس نے کہا ذرا ٹھہریں سخت گرمی کا وقت ہے آپ کو اس وقت جانے سے تکلیف ہو گی۔انہوں نے کہا نہیں اب میں ٹھہر نہیں سکتا۔چنانچہ وہ سیدھے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے اور دروازہ کھٹکھٹایا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم آپ کی آواز سن کر تشریف لائے اور دروازہ کھولا۔دروازہ کھلتے ہی حضرت ابوبکرؓ نے کہا میں آپ سے ایک سوال کرنا چاہتا ہوں آپ بتائیں کہ کیا آپ یہ کہتے ہیں کہ خدا کے فرشتے آپ پر نازل ہوتے ہیں اور وہ آپ سے باتیں کرتے ہیں؟ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ خیال فرماتے ہوئے کہ یہ میرے دوست ہیں اور ان سے میرے پرانے تعلقات چلے آرہے ہیں ایسا نہ ہو کہ ٹھوکر کھا جائیں مناسب سمجھا کہ پہلے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو کچھ سمجھا لیں۔چنانچہ آپ نے فرمایا ابوبکر پہلے میری بات سن لو بات یہ ہے کہ حضرت ابوبکرؓ نے اسی وقت آپ کے سلسلہ کلام کو