تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 430
ہے ان کے مقابلہ کے لئے ہمیں ہوشیار ہو جانا چاہیے کیونکہ پیشگوئیاں سب عرب کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔غرض شتاء و صیف کے ان سفروں میں ایک بہت بڑی غرض اللہ تعالیٰ نے یہ مخفی رکھی ہوئی تھی کہ مکہ کے لوگ یہود و نصاریٰ سے بار بار ملیں اور آنے والے نبی کے متعلق ان سے پیشگوئیاں سنتے رہیں تاکہ جب اس نبی کا ظہور ہو اس پر ایمان لانا ان کے لئے آسان ہو۔چنانچہ میں بتا چکا ہوں کہ مدینہ کے لوگوں کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کی توفیق محض یہود سے تعلق رکھنے کی وجہ سے ہی ملی۔اللہ تعالیٰ بھی قرآن کریم میں اس کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے وَ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ يَسْتَفْتِحُوْنَ۠ عَلَى الَّذِيْنَ كَفَرُوْا ( البقرۃ:۹۰) یعنی آج یہودی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار کر رہے ہیں مگر پہلے یہی یہود عربوں کو بتایا کرتے تھے کہ عنقریب ایک نبی آنے والا ہے جس کے ذریعہ ہمیں اپنے دشمنوں پر فتح حاصل ہو گی۔پس اس شمال و جنوب کے سفر کی وجہ سے مکہ کے اَن پڑھ لوگ یہود و نصاریٰ کے علماء سے ملتے اور ان کی آراء سے جو وہ آخری نبی کے بارہ میں رکھتے تھے واقف رہتے چنانچہ اس کا ثبوت اس امر سے بھی ملتا ہے کہ احادیث میں آتا ہے حضرت ابوطالب جب اپنے ساتھ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو شام کے سفر پر لے گئے تو وہاں ایک پادری نے آپ کو دیکھ کر کہا کہ اس بچے کی خاص نگرانی کرنا اس میں ایسی علامات پائی جاتی ہیں شاید یہ بہت بڑا انسان ثابت ہو(السیرۃ النبویۃ لابن ھشام قصۃ بحیرٰی) اور شاید عرب کے بارہ میں جو الہامی کلام ہے وہ اسی کے ذریعہ سے پورا ہو۔اسی قسم کی باتیں مکہ والے ان سفروں میں متواتر سنتے رہتے تھے اور انہیں باتوں کو اللہ تعالیٰ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تائید میں ابتدائی دور چلانے کا ایک ذریعہ بنانا چاہتا تھا۔پس یہ دونوں سفر درحقیقت اللہ تعالیٰ کی ایک حکمت کے ماتحت تھے۔ورنہ وہ قوم جس میں الہام نہیں پایا جاتا تھا، جس کے پاس کوئی شریعت نہیں تھی، جو متمدن علاقوں سے بہت دور رہنے والی تھی اس کے لئے یہ کتنی مشکل بات تھی کہ وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دعویٰ کو سن کر آپ پر ایمان لے آتی۔مگر ان سفروں کے نتیجہ میں جب وہ لوگ متواتر یہودیوں اور عیسائیوں سے اس قسم کی باتیں سنتے تو ان کا اپنا عقیدہ کمزور ہو جاتا اور وہ سمجھتے کہ شاید کچھ بات ہو اور شاید کوئی آنےوالا ہم میں آہی جائے۔پس یہ دونوں سفر اللہ تعالیٰ کی ایک بہت بڑی حکمت کے ماتحت تھے۔اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان کی حالت پرتعجب کرو کہ کس طرح یہ قوم جو مکہ میں آبسی تھی جو بھوکی مر جاتی تھی مگر مکہ سے باہر نکلنا پسند نہیں کرتی تھی اب باقاعدہ جس طرح نماز فرض ہوتی ہے، سردی آتی ہے تو یمن کی طرف چل پڑتے ہیں گرمی آتی ہے تو شام کی طرف چل پڑتے ہیں۔یہ سفروں کی محبت ان کےد لوں میں آخر کس نے پیدا کی ہے صرف ہم نے پیدا کی ہے۔اگر یہ مکہ میں بیٹھے رہتے تو ان کو کچھ بھی پتہ نہ چلتا کہ ہم نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم