تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 432 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 432

منقطع کرتے ہوئے کہا۔میں آپ سے کوئی بات نہیں پوچھتا آپ صرف یہ بتائیں کہ کیا آپ نے کہا ہے کہ خدا کے فرشتے مجھ پر نازل ہوتے ہیں اور وہ مجھ سے باتیں کرتے ہیں؟ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دینے سے قبل پھر فرمایا۔ابوبکر بات تو سن لو۔آپ نے خیال فرمایا کہ اگر یک دم میں نے کچھ جواب دیا تو ممکن ہے یہ ٹھوکر کھا جائیں اس لئے تمہیداً میں ان سے چند باتیں کہہ لوں۔مگر ابوبکرؓ نے کہا نہیں میں آپ کو خدا کی قسم دے کر کہتا ہوں کہ آپ مجھے کوئی اور بات نہ بتائیں مجھے صرف یہ بتائیں کہ کیا آپ نے یہ کہا ہے کہ خدا کے فرشتے مجھ پر نازل ہوتے ہیں؟ جب انہوں نے آپ کو اللہ تعالیٰ کی قسم دی اور اصرار کیا کہ مجھے کوئی اور بات نہ بتائی جائے صرف میری بات کا جواب دیا جائے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے اور کوئی چارہ کار نہ رہا اور آپ نے فرمایا ابوبکر ٹھیک ہے میں نے کہا ہے کہ خدا کے فرشتے مجھ پر نازل ہوتے اور مجھ سے باتیں کرتے ہیں۔اس بات کو سنتے ہی حضرت ابوبکرؓ نے کہا پھر آپ گواہ رہیں کہ میں آپ پر ایمان لاتا ہوں اور فرمایا یا رسول اللہ! آپ دلیلیں دے کر میرا ایمان خراب کرنا چاہتے تھے۔میں نے آپ کے چال چلن اور طور طریق کو مدتوں سے دیکھا ہوا ہے اس کے بعد آپ کی صداقت کے متعلق میرے لئے کسی دلیل کی ضرورت نہیں(شرح الزرقانی ذکر اول من اٰمن باللہ ورسولہٖ)۔پس میں کسی دلیل کی وجہ سے نہیں بلکہ خود آپ کی وجہ سےآپ پر ایمان لاتا ہوں۔یہ کیا چیز تھی جس نے ابوبکرؓ کو یک دم ایمان لانے پر آمادہ کر دیا۔یہ انہیں باتوں کا نتیجہ تھا جو مکہ والوں نے یہودیوں اور عیسائیوں سے متواتر سنی ہوئی تھیں ورنہ مکہ والے ان پیش گوئیوں کو کیا جانتے تھے اگر وہ شام اور یمن کے سفروں پر نہ جاتے، اگر وہ آنے والے نبی کے متعلق ان سے بار بار پیشگوئیاں نہ سنتے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا دعویٰ ٔ نبوت مکہ والوں کے لئے ایک ایسی غیر معمولی چیز تھی کہ شاید ابوبکرؓ جیسا انسان بھی آپ کو ماننے کے لئے تیار نہ ہوتا مگر چونکہ متواتر ان کے کانوں میں یہ آوازیں پڑی ہوئی تھیں کہ دنیا میں ایسے لوگ بھی ہیں جو خدا تعالیٰ سے ہم کلامی کا دعویٰ کرتے ہیں، دنیا میں ایسے مذاہب بھی ہیں جو خدا تعالیٰ کی طرف سے پیشگوئیاں کرتے ہیں اور پھر انہوں نے مخصوص طو رپر عرب کے متعلق یہود اور نصاریٰ سے یہ خبریں سنی ہوئی تھیں کہ عرب میں ایک نبی آنے والا ہے اور ان باتوں سے ان کے کان پوری طرح آشنا تھے اس لئے ان باتوں نے ان کے لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کا راستہ کھول دیا۔پس مکہ والوں کے یمن اور شام کے سفر درحقیقت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے لئے بطور ارہاص تھے اور اس ذریعہ سے وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کے لئے تیار کئے جا رہے تھے۔یہی وجہ ہے کہ سورۂ اَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِاَصْحٰبِ الْفِيْلِ