تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 418 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 418

بات کہی ہی تھی کہ ان پر کشفی حالت طاری ہوئی اور انہوں نے دیکھا کہ وہی کتا ان کے سامنے کھڑا ہے۔کشف میں جانور بھی باتیں کر لیتے ہیں۔زمین بھی بات کر لیتی ہے۔لکڑی بھی بات کر لیتی ہے اس لئے کتے کی بات پر تعجب نہیں کرنا چاہیے انہوں نے دیکھا کہ کتا ان کے سامنے کھڑا ہے اور وہ ان سے کہہ رہا ہے کہ بے حیا میں ہوں یا تم۔میں جس انسان کے دروازہ پر بیٹھا ہوں اسے میں نے کبھی نہیں چھوڑا خواہ فاقوں پر فاقے کیوں نہ آئیں۔مگر تم محض خدا کے لئے جنگل میں جا بیٹھے تھے لیکن چند فاقے ہی آئے تھے کہ شہر کی طرف اٹھ بھاگے۔اس نے اتنا کہا اور کشفی حالت جاتی رہی۔انہوں نے تیسری روٹی اور باقی سالن بھی کتے کے آگے ڈال دیا اور خود خالی ہاتھ جنگل کی طرف چل پڑے۔وہاں پہنچے ہی تھے کہ تھوڑی دیر میں ان کےد وست اور کئی دوسرے لوگ کھانا لئے ہوئے آپہنچے اور ان سے معذرت کرنے لگے کہ پچھلے چند دنوں وہ اس خدمت سے محروم رہے۔ان بزرگ نے کہا اس میں تمہارا کوئی قصور نہیں یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے میرا امتحان لیا گیا تھا۔اب اس قصہ کو مکہ کے لوگوں کے حالات سے مقابلہ کر کے دیکھو وہ لوگ مشرک تھے لیکن ان میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمّت بننے کی قابلیت خدا تعالیٰ پیدا کر رہا تھا۔یہ کتنی بڑی قربانی ہے کہ وہ مکہ سے کچھ فاصلہ پر خیمے لگا لیتے اور اپنے بیوی بچوں سمیت وہیں بھوک سے تڑ پ تڑپ کر مر جاتے مگر مکہ کو نہ چھوڑتے تھے اور نہ دوسرے لوگوں سے سوال کرتے۔اس سے ایک طرف تو ان کے اس جوش کا پتہ لگتا ہے جو ان کے دلوں میں خانۂ کعبہ کی خدمت کے متعلق تھا اور دوسری طرف ان کی قناعت کا بھی اظہار ہوتا ہے کہ وہ لوگوں پر بار نہیں بنتے تھے۔کسی سے کچھ مانگتے نہیں تھے۔الگ تھلگ ایک خیمہ میں پڑے رہتے اور وہیں سب کے سب مر جاتے۔قریش کی قربانی میں ہماری جماعت کے لئے نمونہ میں سمجھتا ہوں ہماری جماعت جو اس امر کی مدعی ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی نازل کی ہوئی تعلیم پر ایمان رکھتی اور اس کے نور کی حال ہے اس کے افراد کو بھی اس سے سبق حاصل کرنا چاہیے۔خصوصاً حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی اولاد اور آپ کے خاص اتباع کی اولاد کو میں ان کے اس فرض کی طرف توجہ دلاتا ہوں۔میں دیکھتا ہوں کہ دین کے لئے قربانی اورا یثار کا وہ مادہ ابھی تک ان میں پیدا نہیں ہوا جو احمدیت میں داخل ہونے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام پر ایمان لانے کے بعد ان میں پایا جانا چاہیے تھا۔ان کا قدم نہایت سست ہے اور ان کے اندر قربانی اور ایثار کا مادہ ابھی بہت کم ہے یقیناً اس معیار کے ساتھ ہم کبھی بھی دنیا پر غالب نہیں آسکتے جب تک ہم میں سے ہر شخص یہ نہیں سمجھ لیتا کہ وہ غرض جس کے لئے وہ اس سلسلہ میں شامل ہوا ہے اور وہ مقصد جس کے لئے اس نے بیعت کی ہے وہ دوسری تمام اغراض اور