تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 419 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 419

دوسرے تمام مقاصد پر مقدّم ہے اس وقت تک یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اس نے اپنےا یمان کا کوئی اچھا نمونہ دکھایا ہے۔بلکہ میرے نزدیک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی اولاد کے لئے تو ایسے کام کرنا جن سے دین کی خدمت میں روک پیدا ہو قطعی طور پر ناجائز ہے اور اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو وہ ویسا ہی دنیادار شخص ہے جیسے کوئی اور لیکن دوسروں کو بھی یہ سمجھ لینا چاہیے کہ ان کے اندریہ مادہ ہونا چاہیے کہ جب دین کی طرف سے انہیں آواز آئے وہ اپنے تمام کام کاج چھوڑ کر فوراً چلے آئیں اور اپنے آپ کو دینی خدمات میں مشغول کر دیں۔اب اگر وہ دنیا کا کام کرتے ہیں تو اس لئے کہ ابھی دین کو ان کی ضرورت پیش نہیں آئی۔لیکن اگر ضرورت پیش آجائے تو پھر ان کو یاد رکھنا چاہیے کہ بیعت کے وقت انہوں نے یہ عہد کیا تھا کہ ہم دین کو دنیا پر مقدّم رکھیں گے۔اس دین کو دنیا پر مقدّم رکھنے کے عہد کے آخر کوئی معنے تو ہونے چاہئیں۔اس کے تم کوئی ادنیٰ سے ادنیٰ معنے کر لو آخر کسی نہ کسی چیز کو تمہیں بہرحال اپنے کاموں پر مقدّم رکھنا پڑے گا۔اگر اس عہد میں تم مال شامل کرو تو تمہیں مال پر دین کو مقدّم رکھنا پڑے گا۔اگر جان شامل کرو تو تمہیں جان پر دین کو مقدّم رکھنا پڑے گا۔اگر خدمت شامل کرو تو تمہیں ہر قسم کی خدمت پر دین کو مقدّم رکھنا پڑے گا۔بہرحال کوئی نہ کوئی مفہوم تمہیں اس اقرار کا تسلیم کرنا پڑے گا اور جب یہ اقرار ہر احمدی نے کیا ہے تو ہماری جماعت کے افراد کو سوچنا چاہیے کہ اس اقرار کے بعد وہ کیا کر رہے ہیں ان کا دعویٰ یہ ہے کہ وہ دین کو دنیا پر مقدّم رکھتے ہیں مگر سوال یہ ہے کہ کیا ایسے احمدی موجود ہیں جو سو میںسے ۵۱ روپے دین کے لئے خرچ کرتے ہوں۔مقدّم کے معنے تو یہ ہوتے ہیں کہ میں اور کاموں پر اس کام کو ترجیح دیتا ہوںاگر انہیں سو روپیہ اپنے اخراجات کے لئے ملتا ہے اور وہ دیانت داری کے ساتھ اپنے تمام کاموں پر دین کو مقدّم سمجھتے ہیں تو اس کا ثبوت اسی طرح مل سکتا ہے کہ وہ سو میں سے ۵۱ روپے دین کے لئے خرچ کرتے ہوں۔مگر کیا وہ ایسا کرتے ہیں؟ کیا وہ دن رات کے ۲۴ گھنٹوں میں سے تیرہ گھنٹے دین کے کاموں پر صرف کرتے ہیں؟ یا قربانی اور ایثار کے لحاظ سےوہ اپنے بیوی بچوں اور دوسری چیزوں پر دین کو مقدّم کرتے ہیں؟ یا وطن کے لحاظ سے وہ دین کو دنیا پر مقدّم سمجھتے ہیں؟ یا جان کے لحاظ سے وہ دین کو دنیا پر مقدّم سمجھتے ہیں؟ آخر کوئی ایک چیز تو ہونی چاہیے جس کے لحاظ سے وہ کہہ سکتے ہوں کہ ہم دین کو دنیا پر مقدّم کر رہے ہیں۔اگر ہر احمدی اس نقطۂ نگاہ سے غور کرے اور اسے اپنے اندر ایک بات بھی ایسی نظر نہ آئے جس میں وہ دین کو دنیا پر مقدّم کر رہا ہو تو اسے سمجھ لینا چاہیے کہ یہ محض منافقت کی بات ہے کہ وہ دعویٰ تو یہ کرتا ہے کہ میں دین کو دنیا پر مقدّم کرتا ہوں مگر عمل یہ ہے کہ وہ کسی ایک چیز کے لحاظ سے بھی دین کو دنیا پر مقدّم نہیں کرتا۔آخر کوئی ایک چیز تو ہونی چاہیے جس کے متعلق وہ کہہ سکے کہ میں فلاں چیز کے لحاظ سے دین کو دنیا پر مقدّم کر رہا ہوں۔