تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 417
معلوم ہوا کہ انہوں نے شہر سےباہر ڈیرے لگا لئے ہیں تو ان کی بزرگی اور تعلقات کی وجہ سے دوستوں نے ان کو باقاعدہ صبح و شام کھانا پہنچانا شروع کر دیا مگر ایک دفعہ ایسا اتفا ق ہوا کہ انہیں کھانا نہ پہنچا۔شاید ان سے زیادہ تعلق رکھنے والے لوگ کہیں باہر چلے گئے تھے یا شاید ان میں سے ہر ایک نے یہ سمجھا کہ دوسرے نے کھانا بھیج دیا ہو گا۔اور اس طرح کوئی شخص بھی کھانا نہ لایا۔ایک وقت گذرا اور انہیں کھانا نہ ملا۔دوسرا وقت آیا تب بھی کھانا نہ آیا۔اس کے بعد تیسرا وقت آگیا مگر انہیں پھر بھی کھانا نہ پہنچا۔تیسرے کے بعد چوتھا اور چوتھے کے بعد پانچواں اور پانچویں کے بعد چھٹا فاقہ ان پر آگیا۔جب چھ فاقے ہو گئے تو اب ان کے لئے برداشت کرنا مشکل ہو گیا وہ کسی طرح گرتے پڑتے شہر میں آئے اور اپنے کسی دوست کے ہاں جا کر اس سے خواہش کی کہ وہ انہیں کچھ کھانے کو دے۔اس نے تین روٹیاں اور ان پر کچھ سالن رکھ کر پیش کیا۔انہوں نے روٹیاں اٹھائیں سالن لیا اور باہر جنگل کو چل پڑے۔کچھ دور جا کر انہوں نے دیکھا کہ گھر کے مالک کا کتا بھی ان کے پیچھے چلا آرہا ہے۔انہیں خیال آیا کہ اس کتے کا بھی ان روٹیوں پر حق ہے۔اس پر انہوں نے ایک روٹی لی اس پر سالن کا تیسرا حصہ رکھا اور کتے کے آگے ڈال دیا۔اس نے جلدی جلدی روٹی کھائی اور پھر ان کے پیچھے چل پڑا۔وہ تھوڑی دور گئے ہوں گے کہ پھر ان کو خیال آیا کہ کتا تو ابھی پیچھے چلا آرہا ہے معلوم ہوتا ہے ابھی اسے سیری نہیں ہوئی۔میں سمجھتا ہوں کتا شاید اس لئے ان کے پیچھے گیا ہو گا کہ وہ اس کے مالک کے دوست تھے اور کتا ان کو اکثر آتے جاتے دیکھتا ہو گا۔کتا جہاں اپنے آقا کے ساتھ محبت رکھتا ہے وہاں وہ اپنے آقا کے ساتھ ملنے والوں کو بھی خوب پہچانتا ہے بہت ہی ذہین جانور ہے۔مگر انہوں نے تصوّف کے اثر کے نیچے یہ سمجھا کہ شاید یہ اپنا حق مانگتا ہے۔چنانچہ انہوں نے کتے کو دیکھ کر کہا بے شک تیرا حق مجھ سے زیادہ ہے تو تُو ہر وقت وہاں بیٹھا رہتا ہے مگر میں تو کبھی کبھار جاتا ہوں۔یہ کہہ کر انہوں نے دوسری روٹی لی اس پر بقیہ سالن کا نصف حصہ رکھا اور اسے کتے کے آگے ڈال دیا۔کتے نے وہ روٹی بھی کھا لی مگر پھر بھاگ کر ان کے پیچھے چل پڑا۔اب جو کتا ان کے پیچھے چلا تو انہیں بہت غصہ آیا اور جب انسان کو غصہ آتا ہے تو وہ جانوروں سے بھی باتیں کرنے لگتا ہے۔ہمارے ملک میں بیل چلانے والے بیل سے باتیں کرتے ہیں۔گدھے چلانے والے گدھوں سے باتیں کرتے ہیں۔اِکّے والے آدھی باتیں سواری سے کرتے ہیں اور آدھی باتیں گھوڑے سے کرتے ہیں۔کبھی کہتے ہیں شاباش قدم اٹھائے چلا جا میں تجھے خوب گھاس کھلاؤں گا۔کبھی نہیں چلتا تو غصہ میں اسے گالیاں دینی شروع کر دیتے ہیں۔اسی طرح جب انہوں نے بھی دیکھا کہ کتا ابھی تک پیچھے چلا آرہا ہے تو انہوں نے غصہ سے اس کی طرف دیکھا اور کہا بے حیا دو روٹیاں تو میں ڈال چکا ہوں مگر پھر بھی تو میرا پیچھا نہیں چھوڑتا۔انہوں نے یہ