تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 416 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 416

گذارہ کی کوئی صورت نہ رہی بلکہ بعض لوگوں کی تو فاقہ تک نوبت پہنچ گئی اور ان کے لئے اپنی عزت اور زندگی کا قائم رکھنا مشکل ہوگیا۔مگر پھر بھی قریش کو داد دینی پڑتی ہے کہ انہوں نے ان تمام صعوبتوں کو بڑی خندہ پیشانی کے ساتھ برداشت کیا اور اپنی زبان پر وہ ایک لمحہ کے لئے بھی حرفِ شکایت نہ لائے اوّل تو ان کی یہی بہت بڑی قربانی تھی کہ انہوں نےاپنے کام کاج چھوڑے، پیشوں کو ترک کیا، تجارتوں کو نظرانداز کیا، زمین داریوں سے منہ موڑا اور ایک وادیٔ غیرذی زرع میں جہاں روزی کا کوئی سامان نہ تھا، اہل وعیال کو لے کر رہنا شروع کر دیا۔مگر پھر بھی کوئی کہہ سکتا تھا کہ قریش کا مکہ میں بسنا کوئی ایسی قربانی نہیں جس کی تعریف کی جا سکے کیونکہ مکہ کی عزت لوگوں میں بہت پھیلی ہوئی تھی اور لوگ وہاں حج کے لئے آتے جاتے تھے اس لئے ممکن ہے وہ دولت یا عزت کی خواہش کی وجہ سے مکہ میں جا کر بس گئے ہوں۔سو چونکہ یہ اعتراض پیدا ہو سکتا تھا اس لئے خدا تعالیٰ نے ان کی عزت ظاہر کرنے کے لئے پھر دوسری دفعہ ان کو قربانی کا موقع دیا۔مکہ میں بسنے کی وجہ سے ان کے گذارہ کی کوئی صورت نہ رہی۔حج کی طرف عربوں کو بہت کم توجہ تھی نتیجہ یہ ہو اکہ فاقوں کی وجہ سے جانوں کے اتلاف تک نوبت پہنچ گئی۔یہ لوگ کافر بھی تھے، مشرک بھی تھے، بےدین بھی تھے اور ان میں سینکڑوں قسم کی خرابیاں پائی جاتی تھیں لیکن اس قوم میں بعض غیر معمولی خوبیاں بھی تھیں۔مکہ کے لوگوں میں سے جب کسی خاندان کے پاس کھانے پینے کا سامان بالکل ختم ہو جاتا اور اس کی حالت غیر ہو جاتی۔وہ دوست بھی جو ان کی حالت سے آگاہ ہوتے مدد سے لاچار ہوتے کیونکہ وہ خود بھی غریب ہی ہوتے تھے تو وہ فاقہ کش لوگ قصی پر اعتراض نہیں شروع کر دیتے تھے کہ اس نے ہمیں غلط تعلیم دی تھی ہم مکہ چھوڑ کر چلے جائیں گے۔وہ یہ نہیں کہتے تھے کہ ہم نے بےوقوفی کی کہ ایسی جگہ آبسے جہاں روٹی کا کوئی سامان نہیں تھا بلکہ وہ خاندان اسی وقت اپنا خیمہ اٹھا کر مکہ سے ذرا باہر چلا جاتا (مکانوں کا رواج عرب میں بہت کم تھا بلکہ اب تک بھی بادیہ کے لوگ خیموں میں رہتے ہیں) اور مکہ سے دو تین میل پرے اپنا خیمہ لگا لیتا اور اپنے بیوی بچوں کو بھی وہیں لے جاتا تا کہ اس کے رشتہ داروں، دوستوں اور محلہ والوں کو اس کی اس بری اور خراب حالت کا پتہ نہ لگے۔اور وہیں وہ سب کے سب بھوکے مر جاتے(درّمنثور سورۃ قریش اٰیٰت ۱تا۴)۔میں سمجھتا ہوں یہ اس قسم کی قربانی ہے کہ اس کی مثال دنیا کی تاریخ میں نہیں مل سکتی۔لوگ بھوکے ہوتے ہیں تو وہ فوراً کسی دوسری جگہ جا کر اپنی حالت کو بہتر بنانے کی کوشش کرتے ہیں، وہ دوسروں سے سوال کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے اور صبر اور برداشت کی قوت کو بالکل کھو بیٹھتے ہیں۔ہمارے صوفیاء نے ایک لطیفہ لکھا ہے کہ کوئی بزرگ تھے انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ میں شہر چھوڑ کر باہر جنگل میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کیا کروں گا وہ کھانا بھیج دے گا تو کھا لوں گا اور اگر نہ بھیجے گا تو فاقہ کروں گا۔جب لوگوں کو