تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 415 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 415

کہلائے یہ بتانے کے لئے کہ ہم تھوڑے سے آدمی ہیں جو اپنے داد اابراہیم کی بات مان کر یہاں جمع ہو گئے ہیں تاکہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں اور جو لوگ خانۂ کعبہ کے حج کے لئے آئیں ان کی خدمت کریں۔اور شاید اس نام میں اس طرف بھی اشارہ ہو کہ دوسرے قبائل کو بھی مکہ میں جمع ہونے کی تحریک ہوتی رہے اور حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کی باقی اولاد کے دل میں بھی یہ خیال پیدا ہوتا رہے کہ جب ہم سے تھوڑے سے لوگ وہاں بس گئے ہیں اور انہوں نے ہر قسم کی تکلیف کو برداشت کر لیا ہے تو ہم بھی تو اولادِ ابراہیمؑ میں سے ہیں اگر ہم بھی وہاں جابسیں اور اپنے دادا کے حکم کو مان لیں تو اس میں حرج کیا ہے۔پس شاید اس تصغیر میں ایک یہ بھی حکمت ہو کہ اس نام سے باقی بنواسمٰعیل کےد ل میں تحریک ہوتی رہے اور وہ بھی اپنے دادا ابراہیمؑ کی بات کو مانتے ہوئے خدا تعالیٰ کے گھر کی خدمت کے لئے مکہ میں آبسیں۔پس ممکن ہے کہ اس نام سے انہوں نے دوسرے قبائل کے اندر تحریک کرنے کی ایک صورت پیدا کی ہو اور مکہ میں ان کے جمع ہونے کےلئے ایک تحریک جاری کی ہو۔غرض قصی بن کلاب کی تحریک پر یہ لوگ آئے اورمکہ میں بس گئے مگر ابتداء میں عرب کی توجہ حج کی طرف اتنی نہیں تھی کہ وہ مکہ میں کثرت سے آتے جاتے اور خانۂ کعبہ کی برکات سے مستفیض ہوتے۔اس کا ثبوت یہ ہے کہ وہ قوم جو اپنے دادا کی ہدایت اور خدا تعالیٰ کی طرف سے بڑی بڑی پیشگوئیوں کے باوجود خانۂ کعبہ کو چھوڑ کر چلی گئی۔اگر حاجی کثرت سے مکہ میں آتے ہوتے تو ان لوگوں کے رزق کے سامان پیدا ہوتےرہتے اور ان کو مکہ چھوڑنے کی مجبوری پیش نہ آتی۔پس آلِ اسمٰعیل کا مکہ کو چھوڑ کر دوسرے عرب علاقوں میں پھیل جانا اس امر کا ثبوت ہے کہ اس وقت تک خانۂ کعبہ کے حج کا رواج عرب میں کم تھا اور بہت تھوڑے لوگ حج کے لئے آتے تھے۔مجاوروں کو ہی دیکھ لو ان کا کام کتنا ذلیل ہے اسے دیکھ کر شرم آنے لگتی ہے مگر کیا وہ اس ذلیل کام کو بھی آسانی سے چھوڑنے کے لئے تیار ہوتے ہیں۔باوجود اس کے کہ وہ ایک قابلِ نفرت کام میں اپنی زندگی کے دن بسر کر رہے ہوتے ہیں پھر بھی اس کام سے ان کا جتنا رزق وابستہ ہوتا ہے چاہے وہ رزق ذلّت سے ہی آئے اسے وہ چھوڑنے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔پس اگر بنو اسمٰعیل نے مکہ چھوڑا تو یقیناً اس کے معنے یہ تھے کہ اس زمانہ میں بہت ہی کم لوگ حج کیا کرتے تھے اور ان کے گذارہ کی کوئی صورت نہیں تھی۔اس لئے یہ لوگ مکہ سے نکلے اور تمام عرب میں پھیل گئے۔قریش کی مکہ میں آباد ہونے کے لئے انتہائی قربانی جب قصی بن کلاب کی تحریک پر یہ لوگ مکہ میں جا بسے تو یہی دقّت ان کو پھر پیش آئی۔وہ بس تو گئے مگر چونکہ حاجی بہت کم آتے تھے اور یہ لوگ وہیں مکہ میں رہتے تھے باہر کہیں آتے جاتے نہیں تھے۔نتیجہ یہ ہوا کہ وہ سخت تنگی اور عسر کی حالت میں مبتلا ہو گئے اور ان کے