تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 410 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 410

قریش کے متعلق عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ انہیں اس مچھلی کی وجہ سے ہی قریش کہتے ہیں(تفسیر الخازن سـورۃ قریش)۔چنانچہ مفسرین نے اس بارہ میں حضرت ابن عباس کی ایک روایت درج کی ہے۔اسی طرح بعض اور بڑے بڑے عربوں کے اقوال بھی درج کئے ہیں چنانچہ روایات میں ہے کہ حضرت معاویہ نے ایک دفعہ حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے پوچھا کہ کیا تم بتا سکتے ہو کہ قریش کو قریش کیوں کہتے ہیں انہوں نے جواب دیا کہ قریش مچھلی کی وجہ سے جو سارے سمندری جانوروں سے بڑی ہوتی ہے اور ان کو کھاجاتی ہے مگر اسے کوئی نہیں کھا سکتا چونکہ قریش قبیلہ بھی عرب میں سب سے بڑا ہے اور سارے عرب قبائل اس سے ڈرتے ہیں اس لئے اسے بھی قریش کہنے لگ گئے ہیں۔انہوں نے یہ سوال کیا کہ کیا تم اس کا ثبوت عرب شاعروں کے کلام سے دے سکتے ہو۔یعنی یہ کیوں نہ سمجھ لیا جائے کہ تم نے یہ بات اپنے پاس سے بنائی ہے کہ ان کا قریش نام اس وجہ سے تھا۔اگر یہ بات تم نے اپنے پاس سے نہیں بنائی تو عرب شعراء کا کوئی کلام اپنی تائید میں پیش کرو۔اس پر حضرت ابن عباسؓ نے کچھ شعر پڑھے جن میں یہ ذکر آتا تھا کہ قریش کو اس لئے قریش کہتے ہیں کہ جس طرح قرش مچھلی باقی تمام سمندری جانوروں پر غالب آجاتی ہے اسی طرح قریش بھی تمام قبائلِ عرب پر غالب ہیں۔مگرمیرے اپنے خیال میں یہ روایت صحیح نہیں۔اس لئے کہ جو نظم بتائی جاتی ہے اس کے دیکھنے سے صاف پتہ لگتا ہے کہ وہ بناوٹی ہے۔کیونکہ اس میں یہ بھی ذکر آتا ہے کہ عنقریب ایک نبی ظاہر ہو گا جو تمام عرب کا مرجع اور ملجاء و ماویٰ ہو گا۔اگر وہ اس قسم کے اشعار کہا کرتے تھے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار ہی کس طرح کر سکتے تھے۔انہوں نے تو بڑی بڑی مخالفتیں کیں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سخت مقابلہ کیا۔پس میں سمجھتا ہوں کہ یہ روایت بناوٹی ہے۔لیکن اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ عربوں میں یہ خیال تھا اور اس کا تاریخوں سے بھی ثبوت ملتا ہے کہ قریش کا قریش نام اس جانور کی وجہ سے پڑا مگر یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ انہیں قریش کیوں کہا گیا اس جانور کا نام تو قرش ہے؟ اس کے دو جواب دیئے گئے ہیں۔ایک تو یہ کہ جب اتنے بڑے جانور کا نام قرش ہے جس سے تمام سمندری جانور ڈرتے ہیں اور جو ان سب کو کھا جاتا ہے تو اس چھوٹے سے قبیلہ کا نام تو قریش یعنی چھوٹا قرش ہی موزوں تھا۔گویا ان کے نزدیک قریش کو قریش اس لئے کہتے ہیں کہ یہ چھوٹا سا قبیلہ تھا۔اس لئے لوگوں نے قِرْش کہنے کی بجائے اسے قریش کہنا شروع کر دیا جس سے مراد یہ ہے کہ یہ بھی ایک چھوٹی سی وھیل مچھلی ہے۔مگر بعضوں نے کہا ہے کہ یہ بات نہیں بلکہ تصغیر کا صیغہ بعض دفعہ اظہار عظمت کے لئے بھی آتا ہے۔اس لئے قریش کے معنے بڑی قرش یعنی بڑی وھیل مچھلی کے ہیں اور مراد یہ ہے کہ یہ بڑی قوم ہے۔مگر یہ سارے معنے ایسے ہیں جن میں ایک حد تک تکلف پایا جاتا ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ گو یہ بات صحابہؓ