تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 409 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 409

فُلَانٌ لِعِیَالِہٖ کے معنے ہوتےہیں کَسَبَ۔اس نے اپنے لئے یا اپنے خاندان کے لئے کمائی کی۔اسی سے ایک اور لفظ قِرْش نکلا ہے جس کے متعلق لکھا ہے دَابَّۃٌ تَکُوْنُ فِی الْبَحْرِ۔قرش سمندر میں رہنے والا ایک جانور ہے لَا تَدَعُ دَابَّۃً اِلَّا اَکَلَتْـھَا وہ سب جانوروں کو کھا جاتا ہے فَـجَمِیْعُ الدَّوَابِّ تَـخَافُھَا۔اس وجہ سے سارے سمندری جانور اس سے ڈرتے ہیں وَقَبِیْلَۃٌ مِّنَ الْعَرَبِ اور اس کے معنے عرب کے ایک قبیلہ کے بھی ہیں۔وَاِنْ اَرَدْتَّ بِقُریْشٍ اَلْـحَیَّ صَـرَّفْتَہٗ اور اگر قریش کے معنے تم حَیٌّ کے لو (حی کے معنے بھی قبیلہ کے ہوتے ہیں) تو پھر یہ لفظ منصرف ہو گا جیسے اسی سورۃ میں آتا ہے لِاِيْلٰفِ قُرَيْشٍ اس میں ش کے نیچے تنوین آئی ہے یعنی اس جگہ یہ لفظ منصرف استعمال ہوا ہے وَاِنْ اَرَدْتَّ الْقَبِیْلَۃَ لَمْ تَصْـرِفْہُ لیکن اگر قبیلہ کا لفظ مراد لو تو پھر یہ غیرمنصرف ہو گا۔یعنی قریش کے آخر میں تنوین نہ آسکے گی اور نہ اس کے نیچے زیر آسکے گی۔اس قبیلہ کے آدمیوں کو قُرَشِیٌّ بھی کہتے ہیں اور قُرَیْشِیٌّ بھی کہتے ہیں(اقرب)۔سیبویہ جو نحو کے بہت بڑے ماہر اور امام سمجھے جاتے ہیں ان کا یہ خیال ہے کہ حی سمجھ کر منصرف بنانا اصل قاعدہ ہے۔لیکن وہ کہتے ہیں کہ اسے قبیلہ قرار دے کر غیر منصرف بنانا بھی جائز ہے اس پر کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا گویا چاہیں تو قُرَیْشَ پڑھ لیں اور اسے منصرف نہ بنائیں اس صورت میں علم اور تانیث دو وجہیں پیدا ہو جائیں گی جن کی وجہ سے یہ غیرمنصرف ہو جائے گا۔قِرْش کے متعلق مفسرین اپنے زمانہ کے ملاحوں کی روایتوں کی بناء پر لکھتے ہیں کہ یہ ایک بہت بڑا سمندری جانور ہے جو کشتیوں پر حملہ کرتا اور انہیں مار کر الٹا دیتا ہے اورسوائے آگ اور روشنی کے اور کسی چیز سے نہیں ڈرتا۔جب یہ جانور حملہ کرے تو لوگ آگ جلا کر اس کے منہ کے آگے رکھ دیتے ہیں۔میں سمجھتا ہوں اس بیان سے جو لغت میں آیا ہے وھیل مچھلی مراد ہے۔وھیل مچھلی ہی ایک ایسی چیز ہے جو زور سے اپنی دم مار کر جہازوں کو توڑ دیتی ہے۔یہ مچھلی افریقہ کے ساحل پر بہت ہوتی ہے اور کراچی کے قریب بھی کبھی کبھی آجاتی ہے جس کے معنے یہ ہیں کہ یہ بحیرۂ احمر کے آگے سے گذرتی ہے اور عرب کا علاقہ بحیرۂ احمر کا ہی ہے۔یہ روایت اس بات کا ثبوت ہے کہ وھیل مچھلی عرب کے سمندر کے کناروں پر بھی کبھی کبھی دیکھی جاتی ہے۔چونکہ کراچی کے پاس بعض دفعہ وھیل مچھلی دیکھی گئی ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بحیرۂ احمر کے پاس سے گذر کر افریقہ کے ساحلوں سے یہ مچھلی گذرتی ہے یا پھر ہم قِرَش سے مراد شارک مچھلی بھی لے سکتے ہیں۔شارک بھی چھوٹی کشتیوں پر حملہ کر کے ان کو الٹا دیتی ہے یہ تو ہم یقینی طور پر نہیں کہہ سکتے کہ وہ باقی سارے جانوروں کو کھا جاتی ہے یا نہیں مگر عرب لوگ ممکن ہے کہ جن مچھلیوں سے آشنا تھے انہیں شارک کھا جاتی ہو۔