تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 411 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 411

سے بھی ثابت ہےاور عربوں سے بھی کہ قریش کو قریش اس جانور کی وجہ سے کہتے ہیں مگر صحابہؓ کے زمانہ میں یہ نام نہیں رکھا گیا بلکہ ان کے باپ دادا کے زمانہ سے یہ نام چلا آتا ہے۔پھر نہ قرآن کریم نے یہ معنے بتائے ہیں اور نہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بتائے ہیں۔اگر تو وہ بتا دیتے کہ قریش کو قرش مچھلی کی وجہ سے قریش کہا جاتا ہے تو ہم کہہ دیتے کہ اٰمَنَّا و صَدَّقْنَا۔اور ہم سمجھ لیتے کہ چونکہ خدا تعالیٰ کو غیب کا علم حاصل ہے اور اس کے توسط سے خدا تعالیٰ کے رسول کو بھی بعض امور میں غیب کا علم حاصل ہو جاتا ہے اس لئے انہوں نے جو معنے بتائے ہیں وہی صحیح ہیں مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی ایسی روایت مصدقہ تو الگ رہی ضعیف بھی میں نے نہیں دیکھی جس میں قریش کی وجہ تسمیہ یہ بتائی گئی ہو۔باقی رہے صحابہؓ سو جو بات انہوں نے قوم سے سنی وہ انہوں نے آگے بیان کر دی۔پھر ضروری نہیں کہ یہ روایت صحیح ہو ایسی روایتیں صحیح بھی ہوتی ہیں اور غلط بھی ہوتی ہیں ہم پابند نہیں کہ محض اس وجہ سے کہ ان کی طرف یہ روایت منسوب ہوتی ہے اسے درست تسلیم کر لیں اور قریش کی وجہ تسمیہ اسی قرش کو قرار دیں۔میرا اپنا خیال ہے کہ قریش کا لفظ قَرَشَ سے نکلا ہے جس کے معنے ہیں ادھر ادھر سے جمع کیا۔علامہ قرطبی جو سپین کےا یک بہت بڑے عالم گذرے ہیں انہوں نے بھی اپنی تفسیر میں یہی معنے لکھے ہیں(تفسیر قرطبی زیر آیت ھذا)۔میں تو پہلے بھی یہی بیان کرتا تھا مگر مجھے معلوم نہ تھا کہ علامہ قرطبی بھی اس کے یہی معنے کرتے ہیں۔اب مجھے ان کا حوالہ مل گیا ہے جس سے پتہ لگتا ہے کہ ان معنوں کا میں موجد نہیں بلکہ اس بارہ میں میرا علامہ قرطبی سے توارد ہو گیا ہے۔علامہ قرطبی سپینش مفسر تھے۔اور یہ ایک عجیب بات ہے جوخدا تعالیٰ کی کسی حکمت پر دلالت کرتی ہے (شاید اس میں یہ بتایا گیا ہو کہ آئندہ زمانہ میں یورپ پھر اسی رنگ میں ترقی کرنے والا ہے) کہ سپین کے مسلمان مفسر بغداد کے مصنفوں کی نسبت بہت زیادہ معقول لکھنے والے ہیں۔چوٹی کی کتابیں جو مختلف علوم و فنون سے تعلق رکھتی ہیں وہ سب کی سب سپین میں لکھی گئی ہیں سوائے حدیث کے کہ حدیث وہاں نہیں گئی۔اس لئے کہ حدیث کا علم انہی لوگوں سے نکلنا تھا جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس رہنے والے تھے اور وہ وہی تھے جو بغداد کے رہنے والے تھے یا دمشق کے رہنے والے تھے یہی وجہ ہے کہ سپین میں حدیث کی کوئی کتاب اس پایہ کی نہیں لکھی گئی جس پایہ کی کتابیں عرب کے یا اس کے پاس کے علاقوں میں لکھی گئی ہیں مگر باقی جتنے علوم ہیں ان پر سپین کے لوگوں کی طرف سے بڑی بڑی کتابیں لکھی گئی ہیں۔مثلاً فلسفہ میں ابنِ رشد جو چوٹی کا فلسفی سمجھا جاتا ہے سپین کا رہنے والا تھا۔تصوف میںجس شخص کو تمام دنیا چوٹی کے مقام پر سمجھتی ہے یعنی حضرت محی الدین صاحب ابن عربی، وہ ہسپانیہ کے رہنے والے تھے۔فقہ کے متعلق جو آخری کلام سمجھا جاتا ہے وہ علامہ ابن حجر کا ہے اور علامہ ابن حجر بھی سپینش تھے۔