تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 395 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 395

اس میں بھی غلطیاں ہو جاتی ہیں کہیں ’’ہے‘‘ رہ جاتا ہے، کہیں کا کی جگہ ’’کی‘‘ لکھا ہوا ہوتا ہے، کہیں کوئی اور غلطی ہوجاتی ہے۔کاتب قرآن کریم لکھتے ہیں تو باوجود اس کے کہ بعض دفعہ بڑے بڑے مشّاق کاتب ہوتے ہیں پھر بھی ان سے کئی غلطیاں ہو جاتی ہیں۔اسی طرح ممکن ہے کسی جگہ پر غلطی سے ابی ابن کعب کو خیال نہ رہا ہو اور وہ ان دونوں سورتوں کے درمیان بسم اللہ لکھنا بھول گئے ہوں۔جبکہ قرآن کریم کاجو نسخہ ہمارے پاس ہے اس میں ان دونوں سورتوں کو الگ الگ لکھا ہوا ہے اور ان کے درمیان بسم اللہ بھی لکھا ہوا ہےا ور قرآن کریم کا یہ نسخہ ایسا ہے جس کی ترتیب میں صرف ابی ابن کعب نے ہی کام نہیں کیا بلکہ بہت سے اور صحابہ نے بھی جن کا رتبہ قرأت میں حضرت ابی بن کعب سے کم نہ تھا کام کیا تھا۔چاروں قُرّاء نے مل کر اس میں حصہ لیا ہے اور باقی سارے صحابہؓ نے بھی مل کر حصہ لیا ہے۔جو نسخہ ان ساروں نے مل کر لکھا ہے یہ صاف بات ہے کہ وہ زیادہ احتیاط سے لکھا ہوا ہو گا۔پھر ابی ابن کعب کے نسخہ میں تو غلطی کا امکان ہے کیونکہ کسی نے اس پر بحث نہیں کی لیکن اس پر بحثیں کی گئی ہیں اور صحابہؓ نے اس کے متعلق اپنی شہادتیں اور گواہیاں دی ہیں۔کوئی سورۃ نہیں لکھی گئی، کوئی آیت نہیں لکھی گئی، کوئی زیر اور زبر نہیں لکھی گئی جس کے متعلق دو قسم کی شہادتیں نہیں لی گئیں۔ایک یہ کہ تحریر موجود ہو۔دوسرے یہ کہ زبانی گواہ موجود ہوں جو یہ کہتے ہوں کہ ہم نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسا سنا ہے۔یہ کتنی بڑی محنت ہے اور کتنی بڑی احتیاط کا ثبوت ہے۔زبانی گواہی کو نہیں مانا گیا جب تک اس کے ساتھ تحریری شہادت نہ ہو اور تحریری شہادت کو نہیں مانا گیا جب تک اس کے ساتھ زبانی گواہ نہ ہوں۔گویا تحریر بھی موجود ہو اور زبانی گواہ بھی موجود ہوں تب کسی سورۃ یا آیت کو قرآن کریم میں شامل کیا جاتا اور یہ زبانی گواہ بھی بعض دفعہ سینکڑوں تک ہوا کرتے تھے صرف ایک دو آیتیں ایسی ہیں جن کے متعلق صرف دو دو گواہ ایسے ملے ہیں جنہوں نے یہ کہا ہے کہ ہم نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسا سنا ہے۔(بخاری کتاب فضائل القراٰن باب کاتب النبی صلی اللہ علیہ وسلم )لیکن باقی ساری آیتیں اور سورتیں ایسی ہیں جن میں کسی کے بیس، کسی کے پچاس اور کسی کے سو گواہ تھے اور بہت سے حصوں کے ہزاروں گواہ موجود تھے۔بہرحال وہ شہادت جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تحریر سے ثابت ہوتی تھی خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے املاء اور لکھوانے سے ثابت ہوتی تھی۔پھر زبانی گواہ آتے تھے اور کہتے تھے کہ ہم نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسا سنایا ہم نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسا پڑھا ہے وہی قطعی اور یقینی سمجھی جاتی تھی اور اسی قسم کی شہادتوں کے بعد ہی قرآن کریم میں کوئی آیت شامل کی جاتی تھی۔پس وہ نسخۂ قرآن جو ہمارے پاس ہے اور جس میں سورۃ الفیل اور سورۃ القریش کو الگ الگ لکھا ہو اہے۔یہ خود اپنی ذات میں اس بات کا یقینی ثبوت ہے کہ یہ دونوں سورتیں الگ الگ ہیں۔اگر ایک شخص