تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 394
سفروں میں بھی روک پیدا نہ ہوتی۔پس تباہی کی کیفیت اس نوع کی تھی کہ وہ کیفیت صاف طور پر ایلافِ قریش کی غرض کو بھی ثابت کرتی ہے یا دوسرے لفظوں میں یوں کہو کہ نبیٔ عربیؐ کی بننے والی امت کی حفاظت بھی اللہ تعالیٰ کے مدّ ِنظر تھی کیونکہ اس کی حفاظت میں نبیٔ اُمّیؐ کی بعثت کی کامیابی مضمر تھی۔پس مکہ والوں کی حفاظت بحیثیت مکہ والوں کے نہیں کی گئی یا قریش کی حفاظت بحیثیت قریش کے نہیں کی گئی بلکہ قریش کی اگر حفاظت کی گئی تو اس لئے کہ قریش آئندہ آنے والے نبیٔ اُمّیؐ کی اُمّت بننے والے تھے۔اگر وہ پراگندہ ہو جاتے تو وہ اس کی اُمّت نہ بن سکتے۔پس مکہ والوں کی حفاظت بھی مکہ والوں کی خاطر نہیں تھی بلکہ وہ بھی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر تھی گویا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کامیابی کی خاطر اس قوم کو بھی بچایا گیا۔خلاصہ یہ کہ اصحابِ فیل کو مندرجۂ ذیل تین اغراض کے پورا کرنے کے لئے تباہ کیا گیا۔اصحاب فیل کو تباہ کئے جانے کی تین اغراض اوّل۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احترام کے لئے۔دوم۔خانۂ کعبہ کے اعزاز کے لئے۔سوم۔قریش کو بچانے کے لئے جو حاملِ دینِ مصطفویؐ ہونے والے تھے نہ کہ ان کی کسی ذاتی خوبی کی وجہ سے۔کیا سورۃ قریش سورۃ فیل کا حصہ ہے؟ اس جگہ ایک اور سوال کا حل کر دینا بھی ضروری معلوم ہوتا ہے اور وہ یہ کہ لِاِيْلٰفِ قُرَيْشٍ میں لام کا جو تعلق پہلی سورۃ سے ظاہر کیا گیا ہے اس سے یہ کیوں نہ سمجھا جائے کہ یہ سورۃ سورۃ الفیل کا ایک حصہ ہی ہے علیحدہ سورۃ نہیں۔اس کے متعلق بعض علماء نے یہ مزید دلیل دی ہے کہ ابی ابن کعب کے نسخۂ قرآن میں اس سورۃ اور اصحاب الفیل کی سورۃ کو اکٹھا لکھا ہوا ہے اور دوسری تائیدی دلیل یہ پیش کی ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے متعلق روایت ہے کہ آپ نے ایک دفعہ پہلی رکعت میں سورہ ٔ تین پڑھی اور دوسری رکعت میں سورۂ فیل اور سورۂ قریش دونوں پڑھیں اور بیچ میں بسم اللہ نہیں پڑھی(کشاف زیر آیت ھذا)۔اس سے اس بات کا ثبوت ملتا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے نزدیک بھی یہ دونوں سورتیں ایک ہی تھیں لیکن یہ دلائل کوئی قوت نہیں رکھتے۔ابی ابن کعب اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ان چار آدمیوںمیں سے تھے جن کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ یہ قُرّاءِ اُمّت ہیں اگر کسی شخص نے قرآن سیکھنا ہو تو ان سے سیکھے(بخاری کتاب فضائل القراٰن باب القراء من اصحاب رسول اللہ)۔لیکن جہاں یہ درست ہے وہاں اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ابی ابن کعب ویسے ہی غلطی کر سکتے ہیں جیسے کوئی اور شخص غلطی کر سکتا ہے۔ہم اپنے پاس سے ایک مضمون بنا کر لکھتے ہیں لیکن