تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 396 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 396

اپنے طور پر قرآن کریم لکھتا ہے تو ہو سکتا ہے کہ دو سورتوں کے درمیان بسم اللہ اس سے غلطی سے رہ جائے۔پس یہ کوئی دلیل نہیں جو پیش کی گئی ہے۔دوسرا جواب اس کا یہ ہے کہ اس منفی دلیل کے علاوہ ایسی مثبت دلیل بھی موجود ہے کہ سورۃ قریش سے پہلے بسم اللہ لکھی ہوئی تھی اور اس وجہ سے اس کے الگ سورۃ ہونے میں کوئی شبہ نہیں اور وہ یہ ہے کہ تمام مؤرخین اور تمام قُرّاء اور تمام ماہرین فن صحابہؓ سے متفقہ طو رپر یہ بات ثابت ہے کہ صرف ایک سورۃ البراءۃ ایسی ہے جس سے پہلے بسم اللہ نہیں لکھی گئی اور اس شہادت کے دینے والوں میں خود ابی ابن کعب بھی شامل ہیں۔یہ سب گواہ اتفاق کرتے ہیں کہ سوائے سورۃ البراءۃ کے اور کوئی سورۃ نہیں جس سے پہلے بسم اللہ لکھی ہوئی نہ ہو۔اور جب سوائے سورۃ البراءۃ کے سارے قرآن کریم میں اور کوئی سورۃ نہیں جس سے پہلے بسم اللہ نہ ہوتو اگر ابی ابن کعب نے اپنے نسخۂ قرآن میں سورۃ قریش سے پہلے بسم اللہ نہیں لکھی تو یہ بات خود تواتر کے خلاف ہے اور تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ ان سے غلطی ہوئی۔احادیث صحیحہ سے صاف ثابت ہے کہ جس سورۃ سے پہلے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بسم اللہ لکھواتے تھے وہ اس کے ایک الگ سورۃ ہونے کی ایک قطعی شہادت ہوتی تھی۔یہی وجہ ہے کہ سورۃ البراءۃ کے متعلق یہ اختلاف پایا جاتا ہے کہ وہ کوئی الگ سورۃ ہے یا نہیں۔حضرت خلیفہ اوّل رضی اللہ عنہ کا یہی خیال تھا کہ یہ سورۃ الگ نہیں بلکہ یہ ایک فصل ہے سورۂ انفال کے مضمون کی(حقائق الفرقان زیر تفسیر سورۃ توبہ آیت ۱)۔اور میرے نزدیک یہی درست ہے میں غور سے اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ سورۂ انفال میں ایک دعویٰ کیا گیا ہے جس کا تفصیلی ثبوت سورۃ البراءۃ میں پیش کیا گیا ہے۔چونکہ یہ مضمون مستقل اور اہم تھا اس لئے اس کو بطور فصل قرار دے دیا گیا۔پس وہ کوئی الگ سورۃ نہیں بلکہ سورۂ انفال کی ہی ایک فصل ہے اور اس کا ثبوت یہی ہے کہ صریح طور پر حدیثوں میں آتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی کوئی نئی سورۃ لکھواتے اس سے پہلے بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ ضرور لکھواتے تھے۔سورۃ البراءۃ سے پہلے چونکہ بسم اللہ نہیں اس لئے یہ سورۃ الانفال سے کوئی الگ سورۃ نہیں مگر چونکہ یہ الگ فصل تھی مسلمانوں نے اس کا نام سورۃ البراءۃ رکھ لیا۔مفسرین نے اس جگہ پر یہ بھی جواب دیا ہے کہ مضمون کا اتحاد ایک سورۃ ہونے پر دلالت نہیں کرتا اور یہ بالکل درست ہے۔اس لئے کہ قرآن کریم تو سارے کا سارا منظم، سارے کا سارا مرتب اور سارے کا سارا باترتیب ہے۔اس کے مضامین ایک دوسرے کے ساتھ اس طرح پروئے ہوئے ہیں جس طرح ہار میں موتی پروئے ہوئے ہوتے ہیں اور جب سارا قرآن ہی منظم ہے تو یہ کہہ دینا کہ چونکہ اس سورۃ کا مضمون لام کے ذریعہ سے پہلی سورۃ کے ساتھ