تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 393 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 393

اس تمہید کے سمجھ لینے کے بعد یہ امر سمجھ لینا آسان ہے کہ اصحابِ فیل کی تباہی تینوں اغراض کے لئے تھی اور یہ کہنا کہ اگر یہ تباہی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احترام یا خانۂ کعبہ کے بچانے کے لئے تھی تو قریش پر احسان کیوں جتایا گیا ہے باطل اور واقعات کے خلاف ہے۔جب اس تباہی کی تینوں اغراض تھیں تو وہ ان تینوں کا ذکر کرے گا۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احترام کا بھی ذکر کرے گا، خانۂ کعبہ کی عزت کا بھی ذکر کرے گا اور قریش پر احسان بھی جتائے گا۔دوسرا جواب یہ ہے کہ ہر کام کئی طرح پورا کیا جا سکتا ہے اور ہو سکتا ہے کہ ایک طرح پورا کرنے میں ایک غرض پوری ہو اور دوسری طرح پورا کرنے میں دو غرضیں پوری ہوں۔پس اگر اس کام کو دوسری طرح پورا کیا گیا ہے تو اس کے صاف معنے یہ ہیں کہ دونوں اغراض مدّ ِنظر تھیں اور اگر تیسری طرح پورا کیا گیا ہے جس کے ساتھ تین اغراض وابستہ تھیں تو ہمیں ماننا پڑے گا کہ تینوں اغراض اس کے مدّ ِنظر تھیں۔میں اوپر تفصیلاً بتا چکا ہوں کہ ابرہہ اور اس کے لشکر اور اس کی حکومت کی تباہی صرف خانۂ کعبہ کے احترام اور اس کی عزت کی حفاظت کے لئے نہیں تھی کیونکہ جتنی تباہی سے خانۂ کعبہ بچ سکتاتھا اس سے بہت زیادہ تباہی ہوئی تھی جو بتاتی ہے کہ اس کی تباہی میں کچھ اور اغراض بھی تھیں۔مثلاً خانۂ کعبہ کی حفاظت اس طرح بھی ہو سکتی تھی کہ ابرہہ کے لشکر میں چند موت کے حادثات ہو جاتے اور وہ ڈر کر بھاگ جاتے۔اس طرح بھی خانۂ کعبہ اس کے حملہ سے بچ سکتا تھا لیکن اگر مسیحی حکومت یمن سے بالکل برباد نہ ہو جاتی تو اس کی طرف سے مکہ پر بار بار حملے ہوتے رہتے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ترقی نہ کر سکتے۔ادھر یہ جو ذکر ہے کہ قریش یمن کا سفر کیا کرتے تھے وہ بھی نہ کر سکتے۔آخر جس ملک سے لڑائی ہو اس کی طرف وہ آزادانہ رنگ میں کس طرح سفر کر سکتے تھے۔پس اللہ تعالیٰ نے صرف ابرہہ اور اس کے لشکر کو نہیں بھگایا بلکہ یمن سے اس کی حکومت ہی مٹا دی اسی تباہی کی طرف اللہ تعالیٰ نے پچھلی سورۃ میں اشارہ کیا تھا اور کہا تھا کہ غور کرو اور سوچو کہ ہم نے اصحابِ فیل کو کس رنگ میں تباہ کیا اور دیکھو کہ اس سے نہ صرف مکہ بچ گیا بلکہ یمن سے عیسائی حکومت بھی اٹھ گئی اور یمن کی عیسائی حکومت کے تباہ ہونے کی وجہ سے ہی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن نے مکہ میں ترقی کی اور اس تباہی کی وجہ سے ہی قریش کو یمن میں سردی کا سفر نصیب ہوا۔اگر یہ تباہی نہ ہوتی تو وہ رِحْلَةَ الشِّتَآءِ کس طرح کر سکتے وہاں تو ان کا دشمن بیٹھا ہوا تھا۔یہ تمام امور بتاتے ہیں کہ خالی ابرہہ اور اس کے لشکر کی تباہی اللہ تعالیٰ کے مدّ ِنظر نہیں تھی بلکہ یہ ایک ایسی صورت پیدا کی جارہی تھی جس کے نتیجہ میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت بھی ہو جاتی، خانۂ کعبہ کی بھی حفاظت ہو جاتی اور مکہ والوں کے