تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 387
ہجرت سے پہلے زمانہ سے ہی مطابقت رکھتے ہیں۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے آخری پارہ کی سورتیں یکے بعد دیگرے اسلام کے ابتدائی اور آخری زمانہ سے تعلق رکھتی ہیں یعنی ایک سورۃ اگر ابتدائے زمانۂ اسلام کے متعلق ہوتی ہے تو دوسری سورۃ آخری زمانۂ اسلام کے متعلق ہوتی ہے۔یہ سورۃ اسلام کے ابتدائی زمانہ کے متعلق ہے جیسا کہ اَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِاَصْحٰبِ الْفِيْلِ والی سورۃ آخری زمانہ کے متعلق تھی۔سورۃ قریش کا سورۃالفیل سے تعلق اس سورۃ کا پہلی سورۃ سے یہ تعلق ہے کہ پہلی سورۃ میں یہ بتایا گیا تھا کہ کس طرح خدا تعالیٰ نے کعبہ کی حفاظت کی اور یہ کہ آئندہ زمانہ میں بھی وہ کعبہ کی اسی طرح حفاظت فرمائے گا۔آئندہ زمانہ کی بات تو ابھی دنیا نے دیکھی نہیں جب وقت آئے گا دنیا اس نظارہ کو بھی دیکھ لے گی۔لیکن پہلا نشان مکہ والے دیکھ چکے ہیں۔اس سورۃ میں اللہ تعالیٰ اسی نشان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ اس عظیم الشان نشان کو دیکھتے ہوئے پھر بھی مکہ کے لوگ دنیا کی طرف زیادہ توجہ کرتے ہیں اور خدا تعالیٰ کی طرف کم توجہ کرتے ہیں حالانکہ اتنا بڑا نشان دیکھنے کے بعد انہیں یہ یقین ہو جانا چاہیے تھا کہ خانہ کعبہ سے تعلق رکھنے والوں اور اس کی سچی خدمت کرنے والوں کا اللہ تعالیٰ خود حافظ و ناصر ہوتا ہے اور اس وجہ سے انہیں دنیا کی طرف کم توجہ کرنی چاہیے تھی مگر افسوس ہے کہ ان کی حالت اس کے برعکس ہے۔دوسرا تعلق اس سورۃ کا پہلی سورۃ سے یہ ہے کہ پہلی سورۃ میں کعبہ کے دشمنوں کا انجام بتایا گیا تھا۔اب اس سورۃ میں اللہ تعالیٰ خانۂ کعبہ سے محبت رکھنے والوں کے انجام کا ذکر کرتا ہے۔گویا ایک میں دشمنوں کا انجام بتایا اور دوسری میں دوستوں سے خواہ وہ گناہ گار ہی تھے اپنے تعلق کا اظہار کیا اور ان پر اپنے احسان کا ذکر کیا۔میں اوپر بتا چکا ہوں کہ ابرہہ اور اس کے لشکر کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ کوئی اتفاقی امر نہیں تھا اس امر کا مزید ثبوت ان دونوں سورتوں کا یکے بعد دیگرے آنا ہے۔دنیا میں یہ ایک مسلّمہ اصول ہے کہ جب کسی چیز کے دونوں پہلو بیان کر دیئے جائیں اور وہ دونوں پہلوؤں سے کامل نظر آتی ہو تو اس پر یہ اعتراض نہیں ہو سکتا کہ وہ اتفاقی ہے۔چونکہ اصحاب الفیل کے واقعہ پر یہ اعتراض ہو سکتا تھا کہ کیوں نہ اسے اتفاقی حادثہ قرار دے دیا جائے۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے سورۂ اِیْلٰف کے ذریعہ اس اعتراض کو دور کر دیا۔پہلی سورۃ میں یہ بتایا گیا تھا کہ جس نے خانۂ کعبہ سے دشمنی کی اس سے ایسا ایسا سلوک ہوا۔اب سورۂ اِیْلٰف میں یہ بتاتا ہے کہ جس نے خانۂ کعبہ سے دوستی کی اس سے اس اس طرح سلوک ہوا۔اگر خانۂ کعبہ سے دشمنی رکھنے والوں کی سخت ذلّت اور رسوائی ہوئی اور دوسری طرف خانۂ کعبہ سے دوستی